
اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوں پر مشتمل ایک وفد نے اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے دفتر کا دورہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطا بق اس موقع پر حریت کانفرنس کے کنوینرغلام محمد صفی ، سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ اور حریت کانفرنس کی میڈیا ٹیم نے وفد کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال ، بھارتی ریاستی جبر، میڈیا پر عائد قدغن اور تنازعہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے پاکستان اور آزاد کشمیر کے میڈیا کے کردارکو اجاگر کیا ۔غلام محمد صفی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو محض دو ملکوں کے درمیان کوئی سرحدی تنازعہ یا صرف انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں،بلکہ ایک کروڑ چالیس لاکھ کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں دوست اور دشمن میں فرق سمجھنا ہو گا ۔ بھارت نے کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سمیت تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں جبکہ پاکستان کشمیریوںکی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کا ریاست جموں و کشمیر پرقبضہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اور بھارتی قابض فورسز مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میںملوث ہیں ۔غلام محمد صفی نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہ کیا گیا تو خطے میں ایٹمی تصادم کا خطرہ کسی بھی وقت ایک سنگین حقیقت بن سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کشمیر کا نمائندہ فورم ہے اور صحافی جب چاہیں بلا جھجک رہنمائی کے لیے حریت کانفرنس سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ بھارت اور اس کا گودی میڈیا مقبوضہ جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کومٹانے اور جموںوکشمیرمیں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کیلئے 24گھنٹے منظم انداز میں جھوٹا بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری غیر قانونی، غیر آئینی اور انسانیت کش پالیسیوں کے خلاف ہمارا میڈیا موثر اور تسلسل کے ساتھ آواز بلند نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے زوردیاکہ آزاد کشمیر اور پاکستان کا میڈیا مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حقیقی آواز بنے اور ان پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔ملاقات میں سینئر صحافی عابد عباسی ، صدر کشمیر جرنلسٹ فورم عرفان سدوزئی، سینئر صحافی محمد لطیف ڈار ، مقصود منتظر ،سردار نثار تبسم اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور کل جماعتی حریت کانفرنس کو میڈیا کے ساتھ باقاعدہ مشاورتی پروگرامز اور مکالمے کا سلسلہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر ایسی سخت پالیسیاں مسلط کیں جن کے تحت صحافت کو عملا پابند اور مفلوج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ایک جامع میڈیا پالیسی مرتب کی جائے، کشمیری ڈائسپورہ کو منظم و مضبوط کیا جائے، انہیں ایک پلیٹ فارم پر لا کر کشمیر کاز کے لیے موثر کردار سونپا جائے۔اس موقع پر معروف صحافی کاشف میر، چوہدری رفیق،کشمیری حریت رہنماء زاہد اشرف ، شیخ عبد الماجد منظور احمد ڈار، امتیاز وانی ،عبد المجید لون،سید گلشن،ظہور صوفی،عمر بٹ اور دیگر بھی موجود تھے ۔






