مقبوضہ جموں و کشمیر

کشمیر پر او آئی سی کی حیثیت اور کردار پر سوالات گمراہ کن ہیں، قانونی ماہرین

سری نگر: سیاسی، قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے جریدے آسٹریلیا ٹوڈے میں شائع ہونے والے اس مضمون کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مؤقف کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ ماہرین نے ان دعوؤں کو جانبدارانہ، گمراہ کن اور سیاسی مقاصد سے محرک قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ مضمون تاریخی اور قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے، جس میں او آئی سی کے مؤقف کو محض رسمی قرار دیتے ہوئے بھارت کے طویل قبضے، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی مسلسل نفی اور غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں نے اس دعوے کو بھی رد کیا کہ او آئی سی غیر متعلقہ یا غیر مؤثر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی 57 مسلم اکثریتی ممالک کی اجتماعی آواز ہے اور اس نے مسلسل کشمیر کو ایک حل طلب بین الاقوامی تنازعہ کے طور پر اجاگر کیا ہے، جسے اقوام متحدہ تسلیم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق او آئی سی کے بیانات کو علامتی قرار دینا اس کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد اور مقبوضہ علاقے میں شہریوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی مسلسل اپیلوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
تجزیہ کاروں نے مضمون میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منتخب حوالہ جات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بھارت کی جانب سے رائے شماری کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں ناکامی اور 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کو دانستہ طور پر کم اہمیت دی گئی ہے، حالانکہ ان اقدامات کی او آئی سی سمیت عالمی اداروں نے مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دینا بین الاقوامی قانون اور دہائیوں پر محیط اقوام متحدہ کی شمولیت کے منافی ہے۔
قانونی ماہرین نے دیگر مسلم ممالک کے مسائل سے تقابل کو بھی توجہ ہٹانے کی ایک چال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جبر و استبداد کا جواز نہیں بن سکتیں، جہاں ماورائے عدالت قتل، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی پالیسیاں اور اختلافِ رائے کو کچلنے کے اقدامات بدستور جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ او آئی سی کی جانب سے کشمیر پر مسلسل توجہ دراصل بھارت کی قبضہ گیر پالیسیوں پر عالمی تشویش کی عکاس ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ او آئی سی کو غیر مؤثر ثابت کرنے کی کوششیں ایک وسیع تر بیانیے کا حصہ ہیں، جن کا مقصد مقبوضہ علاقے میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو معمول کا حصہ بنا کر پیش کرنا ہے۔ ماہرین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے بیانیوں کو مسترد کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ کشمیری عوام کے حوالے سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button