بھارت

سہارنپور کلکٹریٹ مسجد کا انہدام قانون کی حکمرانی کے منافی، شفاف تحقیقات کرائی جائیں ، مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنے سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع ایک صدی سے زائد قدیم مسجد کے انہدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قانون کی حکمرانی ، مذہی آزادی اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بورڈکے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے سولہ جولائی کو مسجد کو سرکاری زمین غیر مجاز قبضہ قرار دیتے ہوئے بے دخلی کا حکم دیا تھا جس کے خلاف مسجد انتظامیہ نے ضلعی عدالت سے رجوع کیا، ضلعی عدالت نے دو ستمر کو اپیل مسترد کرتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھا ، چار ستمبر کو ضلعی انتظامیہ نے مقامی مسلمانوں کو یقین دلایا کہ مسجد کو صر ف سیل کیا جائے گا ، مگر اگلے ہی روز صبح چار بجے اسے منہدم کردیا گیاجو انتہائی افسوسناک ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ بے دخلی کا حکم کسی مذہبی عمارت کو فوری طور پر منہدم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا ، اگر مسجد انتظامیہ کے پاس اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا قانونی حق باقی تھا تواسے اس حق کے استعمال کی اجازت دی جانی چاہیے تھی۔ انہوںنے کہا کہ سرکاری زمین ہونے کا دعویٰ ریاست کو قانون سے بالاتر ہو کر کارروائی کا اختیار نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ مسجد کے انہدام کے بعد ملبے کے نیچے سے تقریبا 20فٹ گہرا ایک قدم کنواں بھی سامنے آیا ہے، اس پس منظر میں مسجد کی تاریخی حیثیت ، سرکاری ریکارڈ او ر زمین کی ملکیت کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔ڈاکٹر الیاس نے مطالبہ کیا کہ مسجد کے انہدام کے پورے عمل کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ، مذہی مقامات سے متعلق تنازعات کا حل بلڈوزر نہیں ، بلکہ قانون ، عدالت اور آئین ہے۔
انہوںنے مزید کہا کہ قانونی کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ریاست ہر شہری اور ہر مذہبی مقام کے ساتھ یکسان قانونی معیار اختیار کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button