دہلی کا دھماکہ بارودی مواد کے بجائے گیس سلنڈر پھٹنے کا نتیجہ لگتا ہے: ماہرین
نئی دہلی: فرانزک اور دھماکہ خیز موادکے ماہرین نے دہلی دھماکے کے بارے میں”دہشت گرد حملے” کے بھارتی میڈیا کے دعوئوں کو مسترد کر تے ہوئے اس میں گیس سلنڈر یا ایندھن سے متعلق دھماکے کی علامات کی طرف اشارہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد میں جلنے کے نشانات، آگ سے ہونے والا نقصان اور شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے پائے گئے ہیں جو ایندھن میں آگ لگنے یا گیس سلنڈر کے دھماکے کی خصوصیات ہیں۔اس کے برعکس ٹی این ٹی یا آرڈی ایکس جیسے زیادہ دھماکہ خیز مواد سے گہرا گڑھاہونا چاہیے تھا، دور دور تک ٹکڑے بکھرے ہونے چاہیے تھے اور سرایت شدہ دھاتی ٹکڑے ملنے چاہیے تھے لیکن ایسا کچھ نہیں پایاگیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ دھماکہ خیز مواد زورداردھماکے سے پھٹتا ہے، شدید جھٹکوں کی لہریں پیدا کرتا ہے جس سے کنکریٹ میںدراڑیں پیدا ہوتی ہیں اور ہرطرف سے یکساں نقصان پہنچتا ہے جبکہ گیس یا ایندھن کے دھماکے آگ کا باعث بنتے ہیں، جلنے سے آگ کے گولے اور حرارت پر مبنی تباہی پیدا ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک فرانزک باقیات کا تجزیہ فوجی درجے کے دھماکہ خیز مواد کی علامات کی تصدیق نہیں کرتا، اس واقعے کو دہشت گردانہ بمباری کا نام دیناسائنسی طور پر بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام دستیاب شواہد دہشت گردی کے بجائے گیس سلنڈر یا ایندھن کے دھماکے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ماہرین نے افسوس کا اظہار کیا کہ مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت وقت سے پہلے اسے دہشت گردی کا حملہ قراردیکربھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کو بدنام کرنے کے لیے اس واقعے کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سیاسی بیانیے فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے اور آنے والے انتخابات سے قبل عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہندوتوا پر مبنی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے غیر مصدقہ دعوئووں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا مقصد اختلاف رائے کو دباکر اور اپنی ناکامیوں کو چھپا کر اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنا ہے۔




