مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر: شراب کو فروغ دینے پر مودی حکومت پر کڑی تنقید

 

سرینگر :غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت اور اس کے فروغ سے متعلق مودی حکومت کی پالیسیوں پرکڑی تنقید کاسلسلہ جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور سابق کابینہ وزیر نعیم اختر نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں شراب کے حوالے سے جاری بحث صرف اخلاقی یا مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پس پردہ مودی حکومت کے معاشی اور سیاسی مقاصد بھی کارفرما ہیں۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اور اس کی قابض انتظامیہ مقبوضہ علاقے میں محصولات میں اضافے اور سیاحت کے فروغ کے نام پر شراب کوفروغ دے رہی ہے، جبکہ مقامی آبادی کی شدید مخالفت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔نعیم اختر نے کہاکہ یہ مسئلہ صرف ایمان یا اخلاقیات کا نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کی ترجیحات کا ہے، جہاں ریونیو اور سیاحت کو سماجی اقدار پر فوقیت دی جا رہی ہے۔مبصرین کے مطابق مقبوضہ علاقے میں مسلم اکثریتی آبادی کی مذہبی اور ثقافتی حساسیت کے باوجود شراب سے متعلق پالیسیوں کو فروغ دینا عوامی جذبات سے ٹکرائو کا باعث بن رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے ایکسائز ریونیو اور سیاحتی تشہیر کو ترجیح دینا ایسے اقدامات کو جنم دے رہا ہے جو مقامی سماج کے اخلاقی اور ثقافتی ڈھانچے سے متصادم ہیں۔ایک سماجی مبصر نے کہا کہ جب پالیسی فیصلوں میں بار بار عوامی حساسیت اور اجتماعی رائے کو نظر انداز کیا جائے تو اس سے بیگانگی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ مقامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی جذبات اور ثقافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button