بھارت

بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل منوج پانڈے کا ملک کی فوجی ناکامیوں کا اعتراف

 

نئی دہلی: بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے ملک کی فوجی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل کی جنگوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ، دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان ماضی کی آپریشنل ناکامیوں سے سامنے آنے والی ادارہ جاتی کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے جس میں خاص طورپر آپریشن سندور کی شکست شامل ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق آرمی چیف نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی مسلح افواج کو نہ صرف موجودہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا چاہیے بلکہ مستقبل کے خطرات کا بھی اندازہ لگانا چاہیے اور اس کے مطابق تیاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابھرتی ہوئی صورتحال اور طویل مدتی جنگوں کو مو¿ثر طریقے سے لڑنے کے لیے افواج کومستقبل کے لیے تیار ہونے کی ضرورت ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا بیان اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ بھارتی فوج پیچیدہ جدید جنگی منظرناموں خاص طور پر بدلتے ہوئے سیاسی و جغرافیائی منظرنامے اورسائبر، اسپیس اورمعلوماتی جنگ جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجزسے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ تیاری پر بار بار دباو¿ حکمت عملی، منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں فرق کو واضح کرتا ہے۔روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا میں کشیدگی سمیت عالمی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل پانڈے نے قومی مفادات کے تحفظ میں فوجی طاقت کی اولین اہمیت کو اجاگر کیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بیرونی تنازعات کا حوالہ دینے سے بھارت اپنی ناکامیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظالمانہ کارروئیوں کو چھپا نہیں سکتا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور میں شکست جیسے دھچکوںکو دیکھا جائے تو بھارت کی فوجی قیادت کی کارکردگی اور تیاری کے بارے میں سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات فعال دفاعی طرز عمل کے بجائے ایک رد عمل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button