مقبوضہ جموں و کشمیر

ہائی کورٹ نے کالے قانون کے تحت چارافراد کی نظربندی کالعدم قراردے دی

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ہائی کورٹ نے ثبوت نہ ہونے کی بناء پر کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت چارافراد کی نظربندی کالعدم قراردیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس سنجے دھر نے توصیف احمد پرے، جہانگیر احمد ملک، توصیف احمد شیخ اور محمد اسحاق تانترے پر کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاکو کرنے کے احکامات کو منسوخ کردیا جنہیں بالترتیب بارہمولہ، شوپیاں، کولگام اور اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کے احکامات پر نظربند کیاگیاتھا۔انہیں آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا جسے مودی حکومت بھارت کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے۔اپنے فیصلے میں جسٹس دھر نے کہا کہ توصیف احمد پرے، جہانگیر احمد ملک اور توصیف احمد شیخ کی طرف سے کیے گئے دعوے کہ انہیں وہ تمام مواد فراہم نہیں کیا گیا جس پر نظر بندی کے احکامات جاری کئے گئے ، درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتیاطی گرفتاری قوانین کے ظالمانہ استعمال کے خلاف ضروری حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے ان کی نظربندی کے احکامات قانونی طور پر جائز نہیں ہیں۔محمد اسحاق تانترے کے کیس میں عدالت نے بتایا کہ جب انہوںنے اپنی نظر بندی کے خلاف درخواست دائر کی توانہیںاس کی پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسے فوری طور پر مطلع کرنے میں ناکامی نظر بندی کے حکم کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی بنیاد ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ درخواستوں کو منظورکیاجاتاہے اور نظر بندی کے غیر قانونی احکامات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیاجائے بشرطیکہ وہ کسی دوسرے کیس میں مطلوب نہ ہوں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button