بھارت جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی تہذیب و تقافت کو مٹانے کے منصوبے پر عمل پیرا
بھارتی وزیر برائے سیاحت و تقافت کا بیان مذموم بھارتی عزائم کا واضح عکاس
سرینگر : بھارت ایک طرف مقبوضہ جموں وکشمیر میں آزادی پسند مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے جبکہ وہ انکی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کے مذموم منصوبے پر بھی عمل پیرا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت کے مرکزی وزیر برائے سیاحت و ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت نے سری نگر کے اپنے حالیہ دورے کے دوران بھدرواہ کے شیو مندر اور دیگر ہندو مذہبی مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کے ثقافتی اور روحانی پہلوﺅںکو عالمی سطح پر متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔ گجیندر سنگھ نے سرینگر میں سات، آٹھ جولائی کو منعقدہ دو روزہ سیاحتی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ کشمیر کی سیاحت صرف جھیل ڈل، گلمرگ، پہلگام وغیر ہ کے خوبصورت مناظر تک محدود نہیں بلکہ یہاں کا ”قدیم ثقافتی اور روحانی ورثہ“ بھی عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنی تقریر میں جموں خطے کے علاقے بھدررواہ میں قائم قدیم شیو مندر اور دیگر ہندو مذہبی مقامات کا ذکر تو کیا لیکن کشمیرکے اسلامی مراکز، مزارات ،خانقاہوں وغیرہ کا بالکل نام نہیں لیا جو انکی بدنیتی ، تعصب اور مسلم دشمن عزائم کا واضح عکاس ہے۔
بھارتی وزیر برائے سیاحت و تقافت کے اس بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے کی مسلم شناخت اور اسلامی تہذیب و تمدن کو مٹانے کے درپے ہے۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت کیطرف سے اگست 2019میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا بنیادی مقصد ہی علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا اور انکی تہذیب و ثقافت کو مٹانا ہے۔
مودی حکومت نے اگست 2019سے اب تک لاکھوں بھارتی ہندوﺅں کو علاقے کے ڈومیسائل سرٹفیکٹس جاری کیے ہیں ، اس نے بڑے پیمانے پر کشمیری مسلمانوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک کی ضبطی اور مسماری کا بہیمانہ عمل بھی شروع کر رکھا ہے جسکا مقصد انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانا اور علاقے کو ہندو توا رنگ میں رنگنا ہے۔







