مقبوضہ جموں وکشمیر میں منشیات کی لت کا بحران سنگین ہوگیا،20لاکھ نوجوان ہیروئن کی وبا کا شکار
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ایک کروڑ بیس لاکھ کی آبادی میں سے تقریبا 20لاکھ افراد کوہیروئن کی لت لگ گئی ہے اور اس بحران کا ذمہ داربھارت کے جابرانہ قبضے کو قراردیا جارہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں پر منشیات کی لت کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے جس نے اس معاملے میں بھارتی پنجاب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔یہ بات قابل ذکرہے کہ سکھ اور کشمیری دانشور منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھارت کی طرف سے ان خطوں میں جاری آزادی کی تحریکوں کو کمزور کرنے کے لیے ایک دانستہ حکمت عملی سمجھتے ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2023میں بھارتی پارلیمنٹ کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کشمیر کے 12ملین افراد میں سے تقریبا 1.35ملین منشیات استعمال کررہے ہیں۔سرینگر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے شعبہ نفسیات کی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر نے کئی دہائیوں سے منشیات کے بحران سے نبرد آزمابھارتی ریاست پنجاب کو اس معاملے میںپیچھے چھوڑ دیا ہے۔اگست 2023میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کے ایک سروے پر مشتمل رپورٹ میںکہاگیا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تقریبا 1.35 ملین منشیات کا استعمال کر رہے ہیں جو پچھلے سال تقریبا 350,000تھی اوراس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔سروے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں منشیات استعمال کرنے والے90فیصدافراد کی عمریں 17سے 33سال کے درمیان ہے۔ ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر میں2023میں منشیات سے متعلق 41,000سے زائد مریضوں کی دیکھ بھال کی گئی اوریہاںہر 12منٹ میں اوسطا ایک شخص لایا جاتا ہے جو کہ 2021کے اعداد و شمار سے 75فیصد زیادہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 2019میں علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے دائمی بے روزگاری شروع ہوئی، جس کے بعد تیزی سے کورونا کی وبا پھیلی، جس نے تنائو اور مایوسی بڑھادی اور کشمیری نوجوان منشیات کے استعمال کی طرف راغب ہوگئے۔IMHANSمیں سائیکیٹری کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر یاسر راتھر کہتے ہیں کہ ہسپتال میں داخل 24سالہ لڑکی چھ سال پہلے ہائی اسکول کی ایک ہونہار طالبہ تھی جو فلائٹ اٹینڈنٹ بننے کا خواب دیکھ رہی تھی۔اس نے 85فیصد نمبروں کے ساتھ 12ویں جماعت پاس کرنے کے بعد ایک معروف پرائیویٹ انڈین ایئر لائن کی طرف سے نوکری کا اشتہار دیکھا اوراس کے لئے ایپلائی کیا۔عافیہ بتاتی ہیں اس بستر پر پڑی میں حقیقی نہیں ہوں۔ میں اپنی گاڑی چلاتی تھی۔ میں ایک حسین عورت تھی جو اپنی خوبصورت لکھائی، ذہانت اور مواصلاتی مہارت کے لیے جانی جاتی تھی۔ میری تیز یادداشت کی وجہ سے میری الگ پہچان تھی۔ میں آسانی سے تفصیلات یاد کر سکتی تھی ، میں خود مختار اور پر اعتماد تھی۔لیکن اب میں یہاں بے حرکت پڑ ی ہوں، ایک مردہ مچھلی کی طرح، جیسا کہ میرے بہن بھائی کہتے ہیں۔ عافیہ کہتی ہیں کہ انہیں ایئر لائن کی ملازمت کے لیے منتخب کیا گیا اور تربیت کے لیے نئی دہلی بھیجا گیا۔ میں دو مہینے تک وہاں رہی۔ یہ ایک نئی شروعات تھی۔لیکن میرے خواب اگست 2019میں اس وقت چکناچور ہوگئے جب بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور اس حیران کن اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے جموں وکشمیر میں ایک ماہ کا لاک ڈائون نافذ کر دیاگیا۔ عافیہ نے کہاکہ اعلیٰ سیاستدانوں سمیت ہزاروں لوگوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی حقوق کو بھی معطل کر دیا گیا، کیونکہ نئی دہلی نے کئی دہائیوں میں پہلی بار اس خطے کو اپنے براہ راست کنٹرول میں لیاتھا۔گھرکی صورتحال تشویشناک تھی۔ میرااپنے خاندان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا، کوئی فون نہیں ہورہا تھا، یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ آیا وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔ میں نئی دہلی میں بغیر کسی رابطے کے مزید نہیں رہ سکتی تھی ۔میں نے ایک ہفتے کی چھٹی لی اور گھر چلی گئی۔ میراخواب تیزی سے ایک ڈرائونے خواب میں بدل گیا۔ جوش ختم ہو گیا اور اس کی جگہ بے رحم بھوک نے لے لی۔عافیہ کہتی ہیںکہ ہیروئن کی گرفت بے رحم ہے۔ یہ صرف ایک منشیات نہیں ہے، یہ آپ کی زندگی بن جاتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر یاسر راتھر کہتے ہیں کہ ہیروئن دور دور تک پھیل چکی ہے اور ہم اس سے متاثر ہ مریضوں کی ایک پریشان کن تعداد دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نشے کی وجہ سے عافیہ کے جسم کوبہت زیادہ نقصان پہنچاہے۔ اس کی ٹانگوں، بازئوں اور پیٹ پر کھلے زخموں سے خون رس رہا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ علاقے میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت کے پیچھے بھارتی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو کمزور کرنے اور تحریک آزادی کو دبانے کی ایک بڑی حکمت عملی کے تحت بی جے پی کے دور حکومت میں یہ بحران خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔







