بھارت :ہریانہ میں مسلمانوں کی گوشت کی دکانوں کو بند کرنے کے خلاف احتجاج
نئی دہلی: بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے پلوال میں حکام نے مسلمانوں کی ملکیت والی کئی گوشت کی دکانوں کو سیل کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس کارروائی کے خلاف مختلف طبقوں نے شدید احتجاج کیاجس سے علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔پولیس کی بھاری نفری کی مددسے ضلعی انتظامیہ نے مسلمانوں کی گوشت کی دکانوں کو سیل کر دیا۔میونسپل اور ضلعی عہدیداروں نے لائسنس کے اصولوں اور حفظان صحت کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے گوشت کی کئی دکانوں کو سیل کردیا۔ تاہم متاثرہ دکانداروں کا کہناہے کہ مسلمانوں کے ذریعے چلائے جانے والے اداروں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ہے۔متاثرہ دکانداروں کے احتجاج کی ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سامنے آئی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں صرف ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ ویڈیو میں دکاندار انتظامیہ سے پوچھ رہے ہیں کہ صرف کچھ دکانوں کو ہی کیوں سیل کیا گیا ۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مذہبی بنیادوں پر کیاگیا ہے کیونکہ صرف چند دکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مسلم کمیونٹی کے خلاف امتیازی سلوک ہے۔متاثرہ دکانداروں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مساوی سلوک کا مطالبہ کیا۔بہت سے لوگوں نے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکام پابندیاں لگانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہے ہیں جس سے صرف مسلمان متاثر ہورہے ہیں۔







