اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں جموں وکشمیرکی متنازعہ حیثیت کی توثیق کرتی ہیں
پیرس: ایشین فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈویلپمنٹ اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ بحران پر عالمی برادری کے ردعمل نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کو صرف ایک اندرونی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتاجس کا بھارت دعویٰ کررہاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایف آئی ڈی ایچ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں دونوں تنظیموں نے خاص طور پر دفعہ370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔بیان میں کہاگیاکہ2019میںبھارتی آئین کی دفعہ 370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال تیزی سے بگڑ گئی ہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے غلط استعمال سے انٹرنیٹ کی طویل بندشیں اورانسانی حقوق کے کارکنوں ، صحافیوں اورسول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک ایک معمول بن چکاہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں سے کشمیریوں کے سیاسی حقوق، اظہار رائے اور اجتماع کے حقوق چھین لئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 47، 91، اور 122 میں مضبوطی سے قائم ہے جو علاقے کی متنازعہ نوعیت کی توثیق کرتی ہیں اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے حق خود ارادیت کے استعمال کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی 2018اور 2019کی رپورٹوں سے مزید تقویت ملی ہے جن میں جموں و کشمیر میں شہری اور سیاسی حقوق کو دبانے کی تصدیق کی گئی ہے اور آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تنظیموں نے تنازعہ میں ثالثی کے لیے حالیہ بین الاقوامی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ امریکہ نے عارضی جنگ بندی میں اپنے کردار کے بعد تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے زیادہ سے زیادہ تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا۔ایف آئی ڈی ایچ میں ایشیا کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر Juliette Rousselot نے کہاہے کہ کشمیر کی حیثیت کا سوال ابھی تک حل طلب ہے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متعدد قراردادوں کے ذریعے واضح کیا ہے کہ کشمیر کے عوام کو اپنا حق خود ارادیت استعمال کرنے کو موقع ملنا چاہیے۔ کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم کرنا محض قانونی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ عالمی نظام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فورم اشیاکی ایگزیکٹو ڈائریکٹر میری ایلین ڈیز-باکالسو نے کہا کہ یہ ایک اہم موقع ہے کہ کشمیریوں کے حقوق پر توجہ مرکوز کی جائے۔ بجائے اس کے کہ ہم آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو دبانے کے لیے جبری گرفتاریوں اور قوانین کے غلط استعمال کودیکھتے رہیں جس کی وجہ سے اکثر ادارے بندہونے پر مجبورہوئے یا اظہاررائے اور سیاسی فیصلہ سازی میں ان کی شرکت میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا کوئی بھی ایسا حل جس میں مکمل، آزادانہ اور بامعنی طور پر خود کشمیریوں کی شرکت شامل نہ ہو اسے جائز، پائیدار یا حقوق کی پاسداری نہیں سمجھا جا سکتا۔انہوں نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی میں حالیہ اضافے نے کنٹرول لائن کے دونوںا طراف جموں وکشمیر کے لوگوں کو جنگ اور تشددکے مرکز میں کھڑا کر دیا ہے۔ دونوں تنظیموں نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔






