بھارت

مودی کا بھارت نفرت، تعصب اور ظلم کا گڑھ

بھارتی تجزیہ کار اور مصنف کی مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں پر کڑی تنقید

اسلام آباد:
مودی کا بھارت نفرت، تعصب اور ظلم کا گڑھ بن گیاہے ۔ بھارتی تجزیہ کار اور مصنف مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں پر کڑی تنقید کر رہے ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت کے معروف سیاسی تجزیہ کار اور مصنف آوے شکلا نے دی وائر کو انٹرویو میں مودی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔پروگرام میں کرن تھاپر کی جانب سے بھارت میں ہونے والے حالیہ واقعات پر اہم سوال بھی اٹھائے گئے۔آوے شکلا نے اس سوال پر کہ کیا انتہا پسند سوچ رکھنے والے بھارتی، مسلم ورثے کو اپنی ہندو سنسکرتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں؟ کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، مودی کی سرپرستی میں ایک عام روایت بن چکی ہے، بھارت بڑے پیمانے پر مودی سرکار کے شدت پسند ہندوتوا نظریے کا گڑھ بن چکا ہے۔کرن تھاپر نے آوے شکلا سے ان کی کتاب کے باب "دی ڈفر زون” کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ واقعی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک نااہل قوم ہیں؟” آوے شکلا نے بھارت کو مودی حکومت کی انتہاپسندی کے زیر اثر "ڈفر زون” قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت بھارت میں تعصب، جہالت اور نفرت کو بڑھاوا دے رہی ہے، مودی کے بھارت میں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور تنقید کرنے والوں کو "غدار”ٹھہراقرار دیا جاتا ہے، جمہوریت کا راگ الاپنے والی مودی سرکار عوام کی آزادی اظہاررائے کو دبانے میں مصروف ہے۔کرن تھاپرکے اس سوال کہ کیا ڈفرز اور سارجنٹ میجرز کا یہ امتزاج بھارت کو ایک ناقابلِ قبول قوم بنا رہا ہے؟ آوے شکلا نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کو ایک "ناقص جمہوریت”کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے، بھارت کی عالمی سطح پر رسوائی مودی کی ناقص حکمرانی کی دلیل ہے اوربھارت میں زبان کی بنیاد پر نفرت اور تعصب، قومی اتحاد کو کمزور کرنے والی پالیسیوں کا حصہ بن چکی ہے۔تجزیہ کار نے مزیدکہاکہ مودی کے بھارت میں عوام اپنی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، اچھی تعلیم، صحت اور معقول روزگار سے محروم ہیں۔بھارت کی روایتی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافت مودی کی انتہا پسند سوچ کے باعث شدید خطرے میں ہے، بھارت ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں انصاف، آزادی، اور انسانی وقار کی جگہ حکمرانوں کی آمریت نے لے لی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button