خطے میں کشیدگی بڑھانے کیلئے بھارت کی مقبوضہ کشمیر ،سرحدی ریاستوں میں جنگی مشقیں
سرینگر:
بھارت ایک بار پھر خطے میں کشیدگی بڑھانے کیلئے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر اورپاکستان کے ساتھ سرحدی ریاستوں گجرات، راجستھان اور پنجاب میں جنگی مشقیں شروع کر رہاہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ جنگی مشقیں کنٹرول لائن کے ساتھ مقبوضہ کشمیرکے اضلاع اور پاکستان سے ملحقہ بھارتی ریاستوں میں کل جمعرات سے شروع کی جارہی ہیں ۔مقبوضہ کشمیرمیں کنٹرول لائن کے ساتھ تمام اضلاع اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں شروع کی جانیوالی جنگی مشقوںکامقصد خطے میں کشیدگی بڑھانا اورپاکستان کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ہونے والی ناکامی اور نقصانات کو چھپانا ہے ۔اس سے قبل 7مئی کوبھی بھارت نے سرحدی ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے 244اضلاع میں جنگی مشقیں کی تھیں۔اسی دوران 6اور7مئی کی درمیانی شب کو بھارت نے آپریشن سندور کے نام سے کنٹرول لائن کے پار پاکستان اور آزاد کشمیر میں شہری علاقوں پر حملے کئے تھے۔ ان فوجی مشقوں میںفضائی حملے کے وارننگ سائرن اور بلیک آئوٹ کے طریقہ کار کو جانچنا، شہری دفاع کی تربیت اور ہنگامی صورتحال میں انخلا کی مشق شامل ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں مبصرین نے بھارت کے جنگی جنون پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان جنگی مشقوں کا مقصد علاقے میں کشیدگی کو بڑھانا ہے۔ ان کا کہناتھاکہ یہ مشقیں 10 مئی کو بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے دفاعی ردعمل کے دوران پہنچے والے نقصانات اور ناکامیابیوں کو چھپانے کی کوشش ہیں۔






