بھارت

منی پور: تشدد کا سلسلہ بدستور جاری، ریاست میں نافذ صدر راج مکمل طورپر ناکام ہوچکا ہے، کانگریس

امپھال: بھارتی ریاست منی پور میں جاری سیاسی اور نسلی تشدد کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مئی 2023 سے جاری تشدد میں اب تک 260 سے زیادہ لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ کشیدہ حالات کے سبب ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کانگریس مودی حکومت حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ منی پور کے گورنر اجئے کمار بھلّا کو فوری طور ہٹایا جائے۔ منی پور پردیش کانگریس کے صدر، کیشم میگھ چندر نے اس مسئلے پر حکومت کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ ریاست میں نافذ صدر راج مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور مودی کے اقدامات نہ صرف ناکافی ہیں، بلکہ عوامی احساسات کو بھی مجروح کر رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں، ایک سرکاری بس سے ”منی پور“ کا نام ہٹائے جانے کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے عوامی جذبات میں مزید اشتعال پیدا کیا ہے۔رواں برس13 فروری سے صدر راج نافذ ہونے کے باوجود تشدد اور سیاسی عدم استحکام کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ قبل ازیں بی جے پی سے وابستہ وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے بھی عوامی دباﺅ کے باعث استعفیٰ دیا تھا۔ حالیہ مظاہروں میں، طلبا اور خواتین تنظیموں نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کانگریس نے گورنر اجئے کمار بھلّا کے اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ انہیں یہ حکم کس نے دیا کہ وہ سرکاری بسوں سے "منی پور” کا نام ہٹائیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر کیشم میگھ چندر نے گورنر کے اس فیصلے کو ریاست کی ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کی غیر منطقی حرکتیں لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتی ہیں۔مظاہروں کی شدت اس حد تک بڑھ گئی کہ 26 مئی کو گورنر کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے راج بھون(گورنر ہاﺅس ) پہنچایا گیا۔کانگریس کاکہنا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے وقت پر اقدامات نہ اٹھانے کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button