مضامین

کشمیر کی جدوجہد کا سنگِ میل: 13 جولائی 1931

ماہِ جولائی جب آتا ہے تو دنیا کے کئی علاقوں میں گرمی، تعطیلات، اور خوشی کا پیغام لاتا ہے، مگر کشمیر کے لیے جولائی کا مہینہ ایک خونچکاں تاریخ، جدوجہد، اور قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ مہینہ کشمیریوں کی اس لازوال تحریکِ آزادی کی علامت ہے جو دہائیوں سے ظلم، جبر، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری ہے۔
جولائی کے مہینے کی سب سے اہم اور المناک تاریخ 13 جولائی ہے۔ 1931 میں اسی دن سری نگر کی سینٹرل جیل کے باہر درجنوں کشمیری مسلمانوں کو گولیوں سے شہید کیا گیا جب وہ ایک قیدی عبد القدیر کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ یہ شہادتیں اس جدوجہد کا آغاز تھیں جس نے کشمیر میں آزادی کی چنگاری کو شعلہ بنا دیا۔
ہر سال 13 جولائی کو "یومِ شہداء کشمیر” کے طور پر منایا جاتا ہے۔جولائی کے مہینے میں کشمیری اکثر سخت کرفیو، بلیک آؤٹ، اور سکیورٹی کی سختیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں بھارتی سکیورٹی فورسز اکثر "سرچ آپریشنز” کے نام پر گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو گرفتار کرتی ہیں، ماورائے عدالت قتل کیے جاتے ہیں، اور پیلٹ گنوں سے نوجوانوں کو بینائی سے محروم کیا جاتا ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ماہِ جولائی کشمیریوں کی شہادتوں کی داستان کا مہینہ ہے۔

8 جولائی 2016 – برہان وانی، ایک عہد کا نام
پہاڑوں کی وادیوں میں ایک جوان، برہان مظفر وانی، جو صرف بندوق نہیں، ایک نظریہ، ایک صدا، ایک بیداری کی علامت تھا،
کوکرناگ کے جنگلوں میں بھارتی سنگینیوں نے اس چراغ کو بجھا دیا،
لیکن وہ چراغ بجھا نہیں — جل اُٹھا ہر دل میں، ہر بستی میں، ہر آنگن میں۔

9 جولائی 1993 – عبدالاحد کولنگامی کی استقامت
کولگام کے عظیم سپوت، عبدالاحد، کو قابض بھارتی فوج نے ٹارچر کی اندھی کوٹھریوں میں شہید کیا۔
ان کے صبر، ان کے حوصلے اور ان کے علم کی روشنی آج بھی حزب المجاہدین کی صفوں میں زندہ ہے۔

10 جولائی 2015 – سردار عبدالقیوم خان کی رخصتی
تحریک کا باب، استقلال کا ستون، سردار عبدالقیوم خان خاموشی سے رخصت ہو گیا۔
لیکن ان کی گونج آج بھی میدانِ سیاست و جہاد میں سنائی دیتی ہے۔

13 جولائی 1931 – اذان کے متوالے
یہ دن کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ مگر عظیم باب ہے جب ڈوگرہ ظلمتوں نے اذان کی روشنی سے خوف کھایا۔
سرینگر کی جیل کے احاطے میں جب ایک نوجوان نے اذان کے کلمات بلند کیے، تو ڈوگرہ سنگدلوں نے گولیوں سے اس کی آواز کو دبانا چاہا۔
لیکن اذان مکمل ہوئی…
ایک نہیں، دو نہیں، بائیس نوجوانوں نے ایک دوسرے کے بعد اذان کی ادھوری کڑیاں جوڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
یہ کوئی عام دن نہیں، یومِ شہدائے کشمیر ہے — اذان کی صدا میں لپٹی ہوئی آزادی کی فریاد۔

18 اور 19 جولائی 1997 – پہاڑوں میں شہادت کا چراغ
احمد حسن ادھم پور میں اپنے تین جانباز ساتھی سمیت پیر پنجال کی بلندیوں پر شہادت کا تاج پہن کر امر ہو گئے۔

19 جولائی 1947 – الحاقِ پاکستان کی صدا
اس دن سرینگر کے علاقے آبی گزر میں ایک سادہ سا مکان تاریخ کا مرکز بن گیا۔
غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کی قیادت میں مسلم کانفرنس کے اجلاس نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی۔
یہ صرف ایک قرارداد نہ تھی، یہ کشمیریوں کی دل کی صدا تھی، وہ خواب تھا جس کی تعبیر میں آج بھی شہداء کا خون بہہ رہا ہے۔

25 جولائی 2000 – قلم اور بندوق کا سپاہی
مسعود احمد تانترے… ایک مجاہد، ایک مفکر، ایک مصنف۔
ان کے الفاظ میں بغاوت تھی، اور ان کی بندوق میں غیرت۔
وہ شہید ہوئے، لیکن ان کے لفظ آج بھی وادی کے در و دیوار پر کندہ ہیں۔

31 جولائی 2003 – غازی ملت کا آخری سلام
وہ جنہوں نے کشمیر کو آزادی کا خواب دکھایا، وہ غازی ملت سردار ابرہیم
خاک میں جا سوئے، مگر ان کا عزم، ان کا اخلاص، ان کی قربانی آج بھی کشمیری نوجوانوں کی آنکھوں کا خواب ہے۔ ماہِ جولائی ہمیں صرف ماضی کی یادیں نہیں دیتا، بلکہ مستقبل کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔
جولائی کا مہینہ ہمیں بتاتا ہے کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں، اور شہیدوں کا لہو ہمیشہ راستہ دکھاتا ہے۔ کشمیر کی فضاؤں میں آج بھی اذانوں کی بازگشت، ماں کی دعا، اور شہید کے خون کی مہک زندہ ہے۔ جولائی ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم عارضی ہوتا ہے، مگر آزادی کی تڑپ ابدی۔ وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن، انصاف، اور آزادی کا سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہوگا

تحریر : محمد اقبال

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button