برسلز:شبیرشاہ، یاسین ملک، خرم پرویزاور احسن انتو کی رہائی کیلئے یورپی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ
برسلز:
برسلز میں کشمیر کونسل ای یو کے زیر اہتمام غیرقانونی طورپر نظربند حریت رہنمائوں بیراحمد شاہ، یاسین ملک اور انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز اور احسن انتو سمیت کی رہائی کیلئے یورپی پارلیمنٹ کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ لگایاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق احتجاجی کیمپ میں بڑی تعداد میں کشمیری رہنمائوں، سیاسی کارکنوں، سماجی شخصیات اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ کیمپ کے منتظمین میں کشمیرکونسل ای کے چیئرمین یو علی رضا سید، دیگر شخصیات چوہدری خالد جوشی، را جہ مستجاب، سردار صدیق، افتخار احمد عرف پا بلو، شازیہ اسلم، طارق محمود، پروفیسر حماد، راجہ عبدالقیوم اور مہر ندیم شامل تھے ۔ احتجاجی کیمپ کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کو اجاگر کرنا بھی تھا۔اس موقع پر مقررین نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کوصرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق تلاش کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنا ہوگا اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے ظالمانہ فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات کی راہ اپنانا ہوگی۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر دبا بڑھائے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور کشمیری سیاسی نظربندوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو رہا کرے۔ علی رضا سید نے شبیر احمد شاہ، یاسین ملک، خرم پرویز، احسن انتو اور دیگر کشمیری نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔ بھارت نے جنہیں جھوٹے الزامات کے تحت طویل عرصے سے قید کر رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاس ہے اور اقوام متحدہ کو فوری طور پر مداخلت کرکے کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانی چاہیے ۔علی رضا سید نے کہاکہ کشمیر کونسل ای یو کے احتجاجی کیمپ کا مقصد عالمی برادری کی توجہ کشمیر کی صورتحال کی جانب مبذول کروانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کہ کشمیرکونسل ای یو مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل تک کشمیری عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔احتجاجی کیمپ میں شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ بینرز اور پلے کارڈز پر شبیرشاہ، یاسین ملک اور خرم پرویز کی تصاویر بھی موجود تھیں۔ شرکا نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری کشمیر کی آواز سنے، بھارت کشمیر سے اپنی فوج نکالے، کشمیری اسیروں کو رہا کرے اور کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت کو تسلیم کرے۔







