نئی دلی :مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ
122 سابق سرکاری ملازمین نے دستخط شدہ عرضداشت ارکان پارلیمنٹ کو پیش کر دی
نئی دہلی: بھارتی اور کشمیری سیاسی رہنماوں، کارکنوں اور سابق بیوروکریٹس نے بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا جس میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اجلاس کا انعقاد ”فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں وکشمیر “ نے کیا تھا ۔ یہ اجلاس بھارتی پارلیمنٹ کے جاری مانسوں اجلاس کے موقع پر منعقد کیا گیا تاکہ ریاستی اورخصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو پارلیمنٹ تک پہنچایا جاسکے۔
سابق بھارتی مصالحت کا ر رادھا کمار نے اجلاس کے دوران کہا کہ ہمار ا مطالبہ ہے کہ جموںوکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد لائی جائے۔ اجلاس میں کشمیری رہنماﺅں فاروق عبداللہ، محمد یوسف تاریگامی اور آغا روح اللہ مہدی وغیرہ نے بھی شرکت کی۔ سابق داخلہ سکریٹریGopal Pillai سمیت 122 سابق سرکاری افسران کی دستخط شدہ ایک عرضداشت بھی بھارتی ارکان پارلیمنٹ کو پیش کی گئی جس میں ان پر ریاستی حیثیت کی بحالی کیلئے ایوان میں قرارداد لانے پر زور دیا گیا ۔ اجلاس میں کانگریس اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے کچھ ارکان پارلیمنٹ بھی شریک تھے۔فاروق عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ ہم یہاں بھیک مانگنے کے لیے نہیں آئے ہیں ، ریاستی درجہ یہ ہمارا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 کا فیصلہ غیر قانونی تھا جسے واپس لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی حیثیت کی منسوخی سے قبل جموں و کشمیر کے منتخب نمائندوں کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی۔آغا روح اللہ مہد ی نے کہا کہ جموں وکشمیر کو مسلم اکثریتی خطہ ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔
کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ کشمیر آج بھی درد و تکلیف کا شکار ہے، کشمیریوں کو ان گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے جو انہوں نے کبھی نہیں کیے ۔
کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے سجاد کرگیلی نے کہا کہ لداخ کو دھوکہ دیا گیا ہے اور حق رائے دہی سے محروم کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کو تبدیل کیا جانا چاہئے، ہماری زمین خطرے میں ہے۔







