نئی دلی:آغا روح اللہ نے صحافی ارفاز ڈینگ کے گھر کی مسماری کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا

نئی دہلی: نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سری نگر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے جموں میں صحافی ارفاز احمد ڈینگ کے گھر کی مسماری کا معاملہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں اٹھاتے ہوئے اس امتیازی کارروائی کی مذمت کی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق روح اللہ مہدی نے بھارتی پارلیمنٹ کے جاری اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان صحافی ارفاز احمد کے گھر کو قطعی طور پر غیر قانونی طریقے سے مسمار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دکھائی دیتا ہے کہ جیسے اتر پردیش کے وزیر اعلی ٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور مقبوضہ جموںوکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے درمیان مقابلہ ہے کہ مسلمانوں کے مزید گھر کون گرائے گا۔انہوںنے سوال اٹھا یا کہ کیا بھارت کسی قانون قاعدے کے ساتھ چلے گا یا پھر اسرائیل سے درآمد کردہ اسلامو فوبیا کے نظریے کے ساتھ۔آغا روح اللہ نے جموں کے رہائشی کلدیپ شرما کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ارفا ز کو پانچ مرلہ اراضی تحفے میں دے دی ہے۔انہوں نے کہاکہ شرما کے اقدام سے یہ ثابت ہوا ہے کہ چاہیے کوئی ذہنوں میں کتنا ہی زہر بھر دے ، ہم کشمیری ایک ہیں۔
یاد رہے کہ نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے27نومبرکو جموں کے علاقے ناروال میں ارفاز احمد کا تین مرلے کا گھر کوئی پیشگی اطلاع دیے بغیر مسمار کر دیا تھا۔ قابض انتظامیہ نے انہیں مقبوضہ علاقے کی حقیقی تصویرسامنے لانے اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا






