بھارت میں بڑھتا ہوا اسلامو فوبیا، شملہ میں مسجد کی بالائی منزلیں منہدم ،اتراکھنڈ میں سیل

شملہ: بھارت میں حکام نے مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیاں تیز کر دی ہیں جس سے مودی حکومت کے دور میں قانون کے امتیازی نفاذ اور بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر شدید تشویش کا اظہار کیاجارہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے دار الحکومت شملہ میں قائم سنجولی مسجد کی بالائی منزلوں کو گرانے کا کام حکومت کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا ۔ مسجد کی دومنزلیںپہلے ہی گرائی جاچکی ہیں۔ مسجد کمیٹی کے صدر محمد لطیف نے بتایا کہ اس کارروائی سے مسلمانوں کو شدید تکلیف اور الگ تھلک کئے جانے کا احساس ہواہے۔انہوں نے کہاکہ حکام نے مقامی مسلم آبادی کے مذہبی جذبات کے باوجود کارروائی کی ہے۔ اسی طرح کی کارروائی اتراکھنڈ میں بھی کی گئی ہے جہاں مسوری دہرادون ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے رجسٹریشن اور تعمیر کی منظوری حاصل نہ کرنے کی آڑ میں کنڈوگل گائوں میں ایک مسجد کی پہلی اور دوسری منزل سیل کر دی ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ بہت سی دوسری غیر قانونی تعمیرات کو چھوا بھی نہیں گیا جبکہ مساجد کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے مسلمانوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بھارت میں ریاستی سرپرستی میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی عکاسی کرتی ہیں جہاں مودی حکومت مسلمانوں کو پسماندگی میں دھکیلنے، ان کی مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے قانونی اور انتظامی اقدامات کا سہارا لے رہی ہے۔







