بھارت

بھارت،اپوزیشن جماعتوں کے الیکشن کمیشن پر جانبداری ،بی جے پی حکومت کو تحفظ دینے کا الزام

نئی دلی:
بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر جانبداری اور بی جے پی حکومت کو تحفظ دینے کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نئی دارلحکومت نئی دلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اپوزیشن اتحادانڈیا کی پریس کانفرنس کے دوران حزب اختلاف کے رہنمائوں نے کہا کہ مودی حکومت عوام کے ووٹ چوری کر کے جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے حق میں "بی ٹیم” کا کردار ادا کر رہا ہے۔ترنمول کانگریس کی رہنما مہوا موئترہ نے مطالبہ کیا کہ جعلی ووٹر لسٹیں تیار کرنے کے ذمہ دار سابق الیکشن کمشنرز کے خلاف کارروائی کی جائے اور لوک سبھا کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں۔ٹی ایم سی کے ایم پی ابھشیک بینرجی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں پر کوئی جواب نہیں دیا اور جانبدارانہ رویہ اختیار کیا۔کانگریس کے گورو گوگوئی نے مزید کہا کہ کئی ریاستوں میں پولنگ بوتھ کی ویڈیوز حذف کر دی گئیں جبکہ ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں کو دانستہ نظر انداز کیا گیا۔سی پی ایم کے جان برٹاس نے الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی "بی ٹیم” قرار دیا جبکہ سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے الزام لگایا کہ 2022 کے انتخابات میں 18 ہزار سے زائد ووٹرز کے نام لسٹ سے نکالے گئے۔تامل ناڈو کے وزیراعلی ایم کے اسٹالن کے مطابق آج بھی مردہ افراد کے نام ووٹر لسٹ میں شامل ہیں۔آر جے ڈی رہنما منوج جھا نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کی روح کو پامال کر کے جمہوری اقدار کو مذاق بنا دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماں نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ دھاندلی زدہ انتخابی نظام مودی سرکار کی سب سے بڑی ڈھال بن چکا ہے اور عوام کے مینڈیٹ کو قتل کیا جا رہا ہے۔
ادھرکانگریس پارٹی کے رہنمااورلوک سبھا میں قائد حزب اختلا ف راہل گاندھی نے بہار میں "ووٹ ادھیکار یاترا” کے دوران کہا ہے کہ غریب عوام کا ووٹ چوری کر کے ان کا بنیادی حق چھینا گیا ہے۔ یہ لڑائی عوامی حقوق اور ووٹ چوری کے خاتمے کے لیے لڑی جائے گی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button