مقبوضہ کشمیر : لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے 2کشمیری مسلم سرکاری ملازمین کو برطرف کردیا

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قابض انتظامیہ نے 2 مسلم سرکاری ملازمین کو آزادی پسند تنظیموں سے وابستگی کے بے بنیاد الزام پرملازمت سے برطرف کردیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی جے پی حکومت نے ضلع کپواڑہ میں ایک سرکاری ٹیچر خورشید احمد راتھر اور مویشیوں کی دیکھ بھال سے متعلق سرکاری محکمے کے اسسٹنٹ سٹاک مین سید احمد خان کو ان کی ملازمت سے برطرف کر دیاہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاہے کہ دونوں کشمیری مسلمانوں کو بھارت کی سلامتی کے مفاد میں ملازمتوں سے برطرف کیاگیا ہے۔بھارتی حکام نے میڈیا کو بتایاہے کہ منوج سنہا نے جمعہ کو مقبوضہ علاقے میں دو سرکاری ملازمین آزادی پسند اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر برطرف کیا ہے ۔2015کے بعد سے بھارتی قابض انتظامیہ نے 500سے زائد کشمیری مسلم سرکاری ملازمین کو انکی ملازمتوں سے برطرف کیاہے۔ ان میں سے بیشتر ملازمین کو اگست2019میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد برطرف کیاگیاہے۔ مبصرین کے مطابق قابض انتظامیہ کشمیری مسلم سرکاری ملازمین کوانتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کیلئے ان الزامات کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے







