لداخ

قابض حکام نے لداخ میں سونم وانگچک کے ادارے کو زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کردی

لہہ: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے میں قابض حکام نے لوگوں کی جمہوری امنگوں کو کچلنے کے لیے ایک اور اقدام کرتے ہوئے” ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹو لرننگ”(HIAL)کو الاٹ کی گئی زمین منسوخ کر دی ہے جس کی بنیاد معروف ماحولیاتی اورتعلیمی کارکن سونم وانگچک نے ڈالی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لہہ کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 40سالہ لیز پر دی گئی 1,076کنال اراضی کو اپنے مطلوبہ مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ فیصلہ بی جے پی کے رہنما کویندر گپتا کو لداخ کا نیا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیے جانے کے چند ہفتوں بعدسامنے آیا ہے جس سے اختلاف رائے کو دبانے کے لئے منظم کارروائی کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔سونم وانگچک نے جو لداخ کے سیاسی حقوق کے لیے جاری تحریک میں سب سے آگے ہیں، اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے حقیقی مطالبات پر آواز اٹھانے والوں کو جان بوجھ کربدنام اور ہراساں کرنے کی کوشش ہے۔ ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹو لرننگ کی سی ای اوگیتانجلی انگمو نے کہا کہ ادارہ طویل عرصے سے دبائو کاشکار ہے اور یہاں تک کہ سرکاری اداروں کو بھی اس کی فنڈنگ روکنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔لہہ اپیکس باڈی کے شریک چیئرمین چیرنگ دورجے نے اس حکم کو ہراساں کرنے کی حکمت عملی قرار دیا، جبکہ کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے ممتاز رہنما سجاد کرگلی نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کی افسوسناک کارروائی قرار دیا جس کا مقصد لداخ کی اختلافی آوازوں کو دبانا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام لداخ کے سول سوسائٹی کے رہنمائوں کو دبانے اور اسٹریٹجک طور پر اہم ہمالیائی خطے میںآئینی ضمانتوں، ریاستی حیثیت اور زمین اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے بڑھتے ہوئے احتجاج کو دبانے کے لیے بھارتی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button