مقبوضہ جموں وکشمیر: موسلادھار بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال،معمولات زندگی درہم برہم
سری نگر:
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں میں انتہائی موسلا دھار بارش ہوئی ہے جس سے کئی نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی اور جموںپٹھانکوٹ شاہراہ پر ایک اہم پل کو نقصان پہنچا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حکام نے ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈ کے شکار علاقوں سے دور رہیں۔ محکمہ موسمیات نے 27 اگست تک باد ل پھٹنے، تیز سیلاب اور زمینی تودے گرنے کے امکانات کے ساتھ درمیانے سے شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے ۔جموں میں انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹیو میڈیسن ( آئی آئی ایم) کے کم از کم 45 طلباءکو ہاسٹل کمپلیکس کی زیریں منزل سیلابی پانی میں ڈوبنے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔طلباءکو بچانے کیلئے ریسکیو آپریشن پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا اور تمام پھنسے طلباءکو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
جموں شہر میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ۔جانی پور، روپ نگر، تالاب تلو، جیول چوک، نیو پلاٹ اور سنجے نگر سمیت کئی مقامات پر سڑکیں ڈوب گئیں اور سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو گیا ، شہر میں ایک درجن گاڑیاں سیلاب میں بہہ گئیں۔محکمہ ٹریفک کے ایک افسر نے بتایا کہ 250 کلومیٹر طویل جموں سری نگر شاہراہ اور 434 کلومیٹر طویل سری نگر لیہہ شاہراہ شدید بارش کے باوجود ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔ تاہم جموں کے پونچھ اور راجوری کو وادی کشمیر کے شوپیاں سے ملانے والی مغل روڈ اور کشتواڑ اور ڈوڈہ اضلاع کو جموں کے مختلف اضلاع سے جوڑنے والی سنتھن سڑک بند ہے۔
جموں پٹھانکوٹ شاہراہ پر لوگیٹ موڑ کے قریب ایک پل درمیان میں ٹوٹ گیا۔ بڑے دریاوں اور ندیوں میں پانی کی سطح بشمول سانبہ میں بسنتر، کٹھوعہ میں اجھ اور راوی، ڈوڈہ میں چناب، کشتواڑ، رامبن اور جموں اور ادھم پور اور جموں میں توی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔حکام نے بتایا کہ ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔KMS-12/M








