بھارت

بھارت روسی تیل کی درآمد کے ذریعے یوکرین جنگ میں ماسکو کی مدد کررہاہے،امریکی ٹریڈ ایڈوائزر

بھارت امریکی معاشی مفادات کو بھی بری طرح نقصان پہنچارہاہے، پیٹر کینٹ ناوارو

واشنگٹن:
امریکی وائٹ ہائوس کے ٹریڈ ایڈوائزر پیٹر کینٹ ناوارو نے بھارت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت بڑی مقدار میں روس سے تیل درآمد کر کے یوکرین جنگ میں ماسکو کو اہم ترین مالی معاونت فراہم کر نے کے علاوہ امریکی معاشی مفادات کو بری طرح نقصان پہنچارہاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وائٹ ہائوس کے ٹریڈ ایڈوائزر پیٹر ناوارو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی روسی خام تیل کی بڑھتی ہوئی خریداری براہِ راست ماسکو کی یوکرین میں جنگ کی مالی معاونت کر رہی ہے۔ فروری 2022میں روس کے یوکرین پر حملے سے قبل بھارت روس سے 1فیصد سے بھی کم تیل درآمد کرتا تھا، اب یہ شرح 35سے40فیصد تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت روس سے بھاری مقدار میں تیل درآمد کر کے اسے ریفائن کرنے کے بعد عالمی منڈی میں مہنگے داموں فروخت کرکے بڑا مفافع کماتاہے۔ انہوں نے کہاکہ تیل کی خطیر درآمد کی وجہ سے روس کو یوکرین کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کیلئے اربوں ڈالر مل رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت روس سے تیل خریدنے کیلئے وہ ڈالرز استعمال کر رہا ہے جو امریکہ سے اسے حاصل ہوتے ہیں جبکہ جنگ میں روس کامقابلہ کرنے کیلئے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کیلئے امریکی ٹیکس دہندگان کو مزید فوجی امداد دینی پڑتی ہے ۔ ناوارو نے بھارت کی پسند تجارتی پالیسیوں پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ 25 محصولات اور اضافی محصولات امریکی تجارتی خسارے میں اضافے اور امریکی مزدوروں و کاروباروں کو نقصان پہنچانے کاباعث بنتے ہیں ۔ انہوں نے واضح کیاکہ بھارت کو روسی تیل کی ضرورت ہی نہیں ہے، وہ صرف مالی فائدے کیلئے روس سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کر رہاہے۔روس سے تیل کی درآمد اور عالمی منڈی میں اسکی فروخت بھارت کا یہ منافع بخش بزنس روس کویوکرین میں جنگ جاری رکھنے میں مدد اور حوصلہ افزائی کر رہاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ بھارت کی توانائی اور تجارتی پالیسیاں عالمی پابندیوں کو کمزور ، یوکرین میں جنگ کوطول دینے کے علاوہ امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچارہی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے روسی تیل کی درآمد جاری رکھنے پر بھارت پر اضافہ 25فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جس کے بعد بھارت پر مجموعی امریکی ٹیرف 50فیصد ہو گیاہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button