مقبوضہ کشمیر : سوپور میں 6کشمیری نوجوان کالے قانون پی ایس اے کے تحت گرفتار

سرینگر:غیرقانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پولیس نے سوپور قصبے میں 6کشمیری نوجوانوں کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکرلیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے نئی دلی کے مقررکردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے عمر اکبر حجام، سلمان احمد شالہ، الطاف احمد شیخ، مبشر احمد، مزمل مشتاق اور ماجد فردوس کو گرفتار کر کے ان پر کالا قانون پی ایس اے لاگو کر دیاہے ۔ بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کئے گئے کشمیری نوجوان سوپور میں طلبا کے حالیہ احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ تاہم مقامی لوگوں نے پولیس کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے نوجوان بے قصور ہیں۔مقامی لوگوںکا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے سوپور گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں اسکول کی ایک طالبہ کی بے حرمتی کے خلاف طلبا نے احتجاج کیا تھا۔ قابض حکام نے عوامی خدشات کو دور کرنے اور انصاف کو یقینی بنانے کے بجائے،بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرلیا ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مقبوضہ کشمیر میں پی ایس اے اور غیر قانونی سرگرمیاں کی روک تھام کے کالے قوانین کے دریغ استعمال سے خوف و دہشت کے ماحول کی عکاسی ہوتی ہے ۔








