مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت کی وعدہ خلافیوں کی وجہ سے لداخ میں بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے:حاجی اصغر علی

کرگل: لداخ کے رہنما حاجی اصغرعلی کربلائی نے خبردارکیاہے کہ خطے کے بنیادی آئینی مطالبات سے متعلق بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی بے حسی اورمسلسل وعدہ خلافیوں کی وجہ سے لداخیوں میں بے چینی اورمایوسی بڑھ رہی ہے اوروہ اپنے جائز حقوق کی بحالی تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے شریک چیئرمین حاجی اصغر علی کربلائی نے ا یک میڈیا انٹرویو میں لداخ کے عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے لہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے کی قیادت میں لداخی عوام ایک پائیدار اور پرامن جدوجہد میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہاکہ آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ بات چیت ہے ، لیکن بھارتی حکومت کی مسلسل بے حسی اور وعدہ خلافیوں نے لداخ کے لوگوں کو اپنی آواز سنانے کے لیے احتجاج، دھرنوں اور ایجی ٹیشنز کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا ۔کربلائی نے ریزرویشن اور روزگار سمیت اہم مسائل کے تئیں مودی حکومت کے مایوس کن رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر اعلی تعلیم کے شعبے میں گزیٹڈ پوسٹوں کی آئوٹ سورسنگ اور کنٹریکٹ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو خطے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دوران ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے خدشات کو اس سنجیدگی کے ساتھ دور نہیں کیا جا رہا ، جس کے وہ حقدار ہیں۔کربلائی نے 24ستمبر کو لداخ کی تاریخ کاسیاہ دن قراردیتے ہوئے کہا کہ اس دن بھارتی فورسز نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کرکے چار نوجوان کو ہلاک، 90سے زائد کو زخمی اور 70 سے زائدکو گرفتارکرلیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی بے گناہ افراد جیل میں ہیں جن میں ممتاز لداخی کارکن سونم وانگچک بھی شامل ہیں جنہیں تعلیم اور ماحولیاتی مقاصد کے لیے اپنی دہائیوں کی خدمات کے باوجود 100دنوں سے زائد عرصے سے کالے قانون قومی سلامتی ایکٹ کے تحت نظربند رکھاگیا ہے۔کربلائی نے کہا کہ ایل اے بی اور کے ڈی اے نے بھارتی حکومت کے ساتھ اپنی پہلی ہی میٹنگ میں سونم وانگچک سمیت تمام نظربندوں کی غیر مشروط رہائی اور ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے اہل خانہ کے لیے باوقار اور مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ مطالبات نہیں مانے جاتے، لداخ میں بدامنی برقرار رہے گی۔انہوں نے کہا کہ 24ستمبر کے بعد بھارتی حکومت نے ایل اے بی اور کے ڈی اے سے چھٹے شیڈول کی حیثیت اور ریاست کے بارے میں مشترکہ تحریری مسودہ طلب کیا تھا جسے مقررہ مدت میں جمع کرایا گیا تھا۔ تاہم تین دن میں ایک اور ملاقات کی یقین دہانی کے باوجود ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود مزید مذاکرات نہیں ہوسکے۔ انہوں نے اس معاملے پر دہلی کی خاموشی کو عوام کے صبر کا ایک سنگین امتحان قرار دیا۔ انہوں نے اس مفروضے کے خلاف خبردار کیا کہ لداخ کے لوگوں کو زیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بعض عناصر کی طرف سے لداخ کے بدھوں اور مسلمانوں کے درمیان، یا کرگل اور لہہ کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی خبردار کیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں پر زور دیا کہ وہ خطے کی اجتماعی آواز کو کمزور کرنے کی کسی بھی سازش کے خلاف متحد رہیں۔انہوں نے کہاکہ لداخ کے لوگوں کی پرامن تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے آئینی اور قانونی حقوق مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button