شیخ تجمل الاسلام کو ان کی چوتھی برسی پر شاندارخراج عقیدت
اسلام آباد: معروف دانشور، تحریک آزادی کشمیر کے سرکردہ رہنما اور کشمیر میڈیا سروس کے بانی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام کو آج ان کی چوتھی برسی پرجدوجہد آزادی کشمیر کے لیے ان کی گرانقدر اور بے مثال خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شیخ تجمل الاسلام 2021میں آج ہی کے دن مختصر علالت کے بعد اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے۔ کے ایم ایس نے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا جس میں عملے کے ارکان نے شرکت کی۔مرحوم کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شیخ تجمل الاسلام نے کے ایم ایس کو ایک منظم اور فعال ادارے میں تبدیل کیااور اسے مقبوضہ جموںوکشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ایک مستند اور قابل اعتماد ذریعہ بنایا۔انہوںنے کہا کہ شیخ تجمل الاسلام کی تحریک آزادی کے حوالے سے گرانقدر خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یاد رہے کہ شیخ تجمل الاسلام کا تعلق سرینگر سے تھا۔ انہوں نے 1975 میں کشمیر یونیورسٹی سرینگر سے ایل ایل بی اور 1980 میں اسی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ وہ طالب علمی کے دوران 1979 سے 1984 تک مقبوضہ علاقے میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ۔ وہ سرینگر سے شائع ہونے والے جماعت اسلامی کے اخبار اذان کے علاوہ دیگر کئی روزناموں کیساتھ بطور مدیر بھی وابستہ رہے۔وہ 1975تا1984 تک سرینگر میں وکالت بھی کرتے رہے۔شیخ تجمل الاسلام کوجموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو چیلنج کرنے پربھارتی غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑا اورانہوں نے کئی بار جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔1971میں مشرقی پاکستانی دولخت ہونے کے بعد بھارت نے پروپیگنڈہ کیا کہ پاکستان اب کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مزید حمایت جاری نہیں رکھ سکے گا۔ اسکے بعد 1975میں اندرا عبداللہ معاہدے سے کشمیری مسلمانوں میں شدید مایوسی پھیل گئی ۔ اس نازک مرحلے پر شیخ تجمل الاسلام کشمیری عوام میں عزم و حوصلے کی امید پیدا کی اور ان کا مورال بلند کیا۔ 1982میں انہوں نے بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کاانعقاد کیا جس پر بھارت کی طرف سے پابندی عائد کر دی گئی۔تاہم انہوں نے کامیابی کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کو نئی قوت کے ساتھ جدوجہد آزادی کو آگے بڑھانے کے لیے متحرک کیا۔شیخ تجمل الاسلام نے زندگی بھرعالمی فورمز پر کشمیر کاز کی حمایت کی۔ پاکستان اور نیپال، بنگلہ دیش، تائیوان، سنگاپور، مالدیپ، ایران، سعودی عرب، برطانیہ، کینیڈا اور متعدد یورپی ممالک میں تنازعہ کشمیر کو اجاگر کیا۔ صحافتی اور فکری حلقوں میں انتہائی محترم شیخ تجمل اپنی ذہانت، دیانتداری، فکری وضاحت اور ثابت قدمی کے لیے مشہور تھے ۔شیخ تجمل الاسلام ایک حقیقی آزادی پسندلیڈر، آرگنائزر اور مظلوموں کی آوازتھے، ان کی خدمات کوکشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔








