گرفتاریاں

بھارتی فورسز نے سرینگر میں ڈاکٹراوران کی اہلیہ سمیت متعدد کشمیریوں کو گرفتارلیا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںبھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں میں متعدد کشمیریوں کو گرفتارکرلیاجن میں ایک ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کائونٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) اوربھارتی پیراملٹری کے اہلکاروں نے شہر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران ایک ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا۔چھاپے کے دوران فورسزاہلکاروں نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر کے سپر اسپیشلٹی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ڈاکٹر عمر فاروق بٹ اور ان کی اہلیہ شہزادہ اخترکو حراست میں لیا۔ فوجیوں نے ان کے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، بینک کی دستاویزات اور کتابیں بھی ضبط کر لیں۔سی آئی کے کے عہدیداروں نے شہزادہ اخترکی گرفتاری کا جواز پیش کرنے کے لئے ان پرتنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرنے والی خواتین کی تنظیم دختران ملت کے ساتھ روابط کا الزام لگایا۔دختران ملت کی رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین 2017سے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میںنظر بند ہیں۔بھارتی فورسز نے سرینگر، کولگام اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔کشمیری سول سوسائٹی گروپوں نے تازہ ترین گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں سیاسی امنگوں کو جرم بنانے کے لئے پیشہ ور طبقے یعنی ڈاکٹروں، ماہرین تعلیم اور دیگر عوامی شخصیات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔بھارتی فورسز ان چھاپہ مارکارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کرتی ہیں کیونکہ انہیں کالے قوانین کے تحت مکمل استثنیٰ حاصل ہے اورسنگین جرائم کے باوجود ان سے کوئی جواب طلبی نہیں کی جاسکتی۔
دریں اثناء بھارتی پولیس اور اسپتال انتظامیہ نے جموں کے شری مہاراجہ گلاب سنگھ اسپتال میں عملے اور ڈاکٹروں کے لاکرز کی تلاشی کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button