دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج نے مسلمانوں کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کے تعصب کو بے نقاب کردیا
بابری مسجد، ایودھیا کے فیصلے اکثریت کی طرف عدلیہ کے جھکائو کی عکاسی کرتے ہیں: جسٹس مرلی دھر
نئی دہلی:بھارت کے ایک سینئر وکیل اور دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایس مرلی دھر نے حساس مذہبی معاملات خاص طور پر مسلمانوں سے متعلق تنازعات سے نمٹنے میںبھارتی عدلیہ کے تعصب کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتیں بابری مسجد کے انہدام کے موقع پر اور اس کے بعد آئینی اقدار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریٹائرڈ جسٹس مرلی دھر نے نئی دہلی میں انڈیا اسلامک اینڈ کلچرل سینٹر میں اے جی نورانی میموریل لیکچر دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے طرز عمل کو ناقابل معافی ادارہ جاتی نسیان( بھولنے کی بیماری) قرار دیا۔مرلی دھر نے 1992میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس پر سپریم کورٹ کی عدم فعالیت کا حوالہ دیا جس پر 22سال تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ جب معاملہ بالآخر جسٹس سنجے کول کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے ایک بند باب قراردے کر مسترد کیا اور کہا کہ مردہ گھوڑے کو کوڑے مارنے سے کیا ہوگا؟انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسے فعل کے بارے میں جسے سپریم کورٹ نے ایک سنگین جرم قرار دیاہے ، ادارہ جاتی اینمیشیا ہے جو میری نظر میں ناقابل معافی ہے۔انہوں نے 2019کے ایودھیا فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اس کیس میں اپنے دائرہ کار سے تجاوز کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے مندر کی تعمیر کے لیے نہیں کہا تھا، یہ فیصلہ مکمل طور پر عدالت کے دائرے سے باہر تھااور اس کا نتیجہ عدالتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ142کے تحت جاری کردہ ہدایات کی نہ تو کوئی قانونی بنیاد ہے اور نہ ہی بھارتی حکومت یا ہندو فریقین کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی درخواست تھی اور مندر کی تعمیر کا سوال کبھی بھی اصل تنازعے کا حصہ نہیں تھا۔جسٹس مرلی دھر نے کہا کہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون کی موجودگی کے باوجودمذہبی مقامات پر مقدمہ بازی بڑھ گئی ہے اور ہر جگہ نئے نئے مقدمات سامنے آرہے ہیں۔ریٹائرڈ جج نے ہندومسلم سوالات پر مباحثے کرانے پر ٹیلی ویژن میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری ایک متنوع ثقافت ہے۔انہوں نے بھارت کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے جنہیں ایودھیا فیصلے کے خالق کے طور پر جانا جاتا ہے، کہا کہ یہ فیصلہ سرکاری طور پر بغیر کسی نسبت کے جاری کیا گیا تھا، پھر بھی تخلیق کار نے بعد میں کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ دینے سے پہلے بھگوان سے مشورہ کیاتھا۔






