رام بن: سیلاب ، لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچادی، گھروں میں ڈراڑیں

جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث ضلع رام بن کے گاﺅں ٹنگار میں بڑے پیمانے پر زمین دھنس گئی ہے اور کم از کم از کم 18 رہائشی مکانات، ایک دکان اور سرکاری ہائی سکول میں دراڑیں پڑگئی ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق گاﺅں میں زمین کا ایک بڑا حصہ دریائے چناب کی طرف دھنس رہا ہے اور لوگ شدید خوف وہراس کا شکار ہیں۔حکام اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کم از کم 18 رہائشی مکانات، ایک دکان اور گورنمنٹ ہائی سکول میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جنہیں اب غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ رہائشیوں نے خبردار کیا کہ اگر زمین دھنسنے کا عمل جاری رہا تو مزید گھر خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کہ ٹنگار کا تقریبا 3 کلومیٹر کا حصہ دھیرے دھیرے نیچے کی طرف پھسل رہا ہے، جو وارڈ 1، 2، 3 اور 7 کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ وارڈ 7 (نیو باس) میں تازہ لینڈ سلائیڈنگ نے مکانات کو منہدم کر دیا ہے، جبکہ کئی بجلی کے کھمبے گر گئے ہیں، جس سے بجلی بند ہو گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان نے رکن اسمبلی رام بن اور اعلیٰ حکام کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے علاقے کا دورہ کیا۔مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر سلائیڈنگ کا سلسلہ جاری رہاتو بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔KMS-01/M






