مودی کی بھارتی حکومت کی دوغلی پالیسی اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بے نقاب
نئی دلی: بھارت کی نام نہاد جمہوریت میں نریندر مودی حکومت کی دوغلی پالیسی اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا۔ انتہا پسند مودی سرکار کی جانب سے کھیلوں خصوصا کرکٹ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال پر اندرونِ ملک کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پنجاب کے وزیراعلی ٰبھگوانت سنگھ مان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بی جے پی کی پالیسی پاکستان کے خلاف ہے یا خود عوام کے خلاف۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسی فنکار کی فلم جو پہلگام واقعہ سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی، اس کی ریلیز پر پابندی لگادی گئی اور اسے غداری قرار دیا گیا، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے خلاف کرکٹ میچ کھیلا گیا۔بھگوانت مان نے کہا کہ فلم روک کر پروڈیوسر اور فنکاروں کو نقصان پہنچایا گیا لیکن کرکٹ میچ کا انعقاد اس لیے ہوا کہ اس کا پروڈیوسر وزیر داخلہ امت شاہ کا بیٹا تھا، جسے نقصان سے بچانا مقصود تھا۔ انہوں نے طنزیہ طورپر کہا کہ اگر میچ کھیلنا ضروری تھا تو پھر کرتارپور جانے والے سکھ یاتریوں پر پابندی کیوں عائدکی گئی ہے؟ اگر کھیل میں ہاتھ ملانا غداری ہے تو پھر کیچ پکڑنے اور چھکے لگانے کو کس کھاتے میں ڈالا جائے؟بھگوانت مان نے مودی سرکار پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آفت آنے پر ایک منٹ میں امداد بھیجی گئی، مگر بھارتی پنجاب کی آفات میں عوام کو نظرانداز کر دیا گیا۔بی سی سی آئی کے سیکریٹری اور وزیر داخلہ کے بیٹے جے شاہ کرکٹ جیسے کھیل کو سیاسی مفاد کیلئے استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں۔ مودی کے بھارت میں نہ صرف اخلاقیات کی پستی عیاں ہو رہی ہے بلکہ اقلیتوں کے خلاف ظلم و جبر بھی بڑھتا جا رہا ہے۔






