مقبوضہ جموں و کشمیر

لداخ : انتظامیہ نے مظاہرے روکنے کیلئے لیہہ ، کرگل اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا، 50سے زائد افراد گرفتار

گزشتہ روز بھارتی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ سے 4افراد کی جانیں چلی گئی تھیں

لیہہ : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انتظامیہ نے لداخ خطے کے اضلاع لیہہ اور کرگل میں احتجاجی مظاہرے روکنے کیلئے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ گزشتہ روز لیہہ میں ریاستی درجے کی بحالی اور چھٹے شیڈول کے نفاذ سمیت دیگر مطالبات کے حق میں مظاہرے کرنے والوں پر بھارتی فورسز اہلکاروں کی اندھا دھند فائرنگ سے کم از کم چار افراد کی جانیں چلی گئی تھیں جبکہ 100کے لگ بھگ زخمی ہو گئے تھے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لیہہ میں لوگوں نے گزشتہ رو ز مطالبات کے حق میںبڑے پیمانے پر مظاہرے کیے تھے ۔ مظاہرین نے بی جے پی کے دفتر اور پولیس کی کئی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا تھا۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شدید لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں چار افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔بھارتی فورسز نے مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں 50سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

معروف موسمیاتی کارکن سونم وانگچک نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 10ستمبر سے 35 روزہ بھوک ہڑتال شروع کر رکھی تھی ۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے دو افراد کی منگل کے روز طبیعت خراب ہوگئی تھی جس پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔سونم وانگچک نے بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پانچ برس تک پر امن احتجاج کیا لیکن ہمارے مطالبات پر کان نہیں دھرے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگ خاص طور پر نوجوان حکومت کے رویے سے انتہائی مایوس ہیں اور وہ احتجاج کیلئے سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہیں۔سونم وانگچک نے ابتر حالات کے پیش نظر فی الحال اپنی بھوک ہڑتال موخر کر دی ہے۔
انتظامیہ نے لیہہ میں بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ163بھی نافذ کر کے پانچ یا اس سے زائد افراد کے اکھٹے ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علاقے کے لوگوں نے گزشتہ رو ز مطالبات کے حق میںبڑے پیمانے پر مظاہرے کیے تھے ۔ مظاہرین نے بی جے پی کے دفتر اور پولیس کی کئی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا تھا۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شدید لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں چار افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔بھارتی فورسز نے مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں 50سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
معروف موسمیاتی کارکن سونم وانگچک نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 10ستمبر سے 35 روزہ بھوک ہڑتال شروع کر رکھی تھی ۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے دو افراد کی منگل کے روز طبیعت خراب ہوگئی تھی جس پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔سونم وانگچک نے بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پانچ برس تک پر امن احتجاج کیا لیکن ہمارے مطالبات پر کان نہیں دھرے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگ خاص طور پر نوجوان حکومت کے رویے سے انتہائی مایوس ہیں اور وہ احتجاج کیلئے سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہیں۔سونم وانگچک نے ابتر حالات کے پیش نظر فی الحال اپنی بھوک ہڑتال موخر کر دی ہے۔

انتظامیہ نے لیہہ میں بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ163بھی نافذ کر کے پانچ یا اس سے زائد افراد کے اکھٹے ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button