خصوصی رپورٹ

بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے بلند وبانگ دعوے بھارت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی کوشش ہے: تجزیہ کار

سرینگر: تجزیہ کاروں نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل امر پریت سنگھ کے تازہ ترین دعوئوں کو آپریشن سندور میں ہونے والی ذلت آمیز شکست کے بعد ملک اوربیرون ملک بھارت کی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اے پی سنگھ نے نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آپریشن سندورکے دوران F-16اور JF-17لڑاکا طیاروں سمیت 12سے 13پاکستانی فوجی طیارے، ایک C-130کلاس طیارے اور دیگر تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔ انہوںنے آپریشن کو بھارت کے لیے تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے ریڈارز، رن ویز، ہینگرز اور کمانڈ سینٹرز کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اے پی سنگھ نے اس سے قبل بھی ایسے ہی دعوے کیے تھے جس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے انہیں چیلنج کیا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے طیاروںکی آزادانہ تصدیق کی اجازت دیں۔تاہم مبصرین کا کہنا کہ یہ بے بنیاد دعوے اور ڈرامائی کہانیاں جنگ ختم ہونے کے مہینوں بعد پیش کی جا رہی ہیں جس سے ان کی صداقت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عسکری ماہرین سمجھتے ہیں کہ پریس کانفرنس کا مقصد میدان جنگ کے حقائق کو سامنے لانے کے بجائے اپنے عوام میں بھارتی فضائیہ کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری میں کی جانے والی قیاس آرائیوں سے بچنا ہے۔ جنگ کے وقت کی رپورٹوں اور آزاد نگرانوں نے کبھی اس نقصان کی تصدیق نہیں کی جس کا دعوی اب بھارتی فضائیہ کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پاکستان کے مضبوط فضائی دفاع اور سخت جوابی اقدامات نے بھارتی فوجی منصوبہ سازوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں نئی دہلی کی مہم جوئی پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار اور ناقابل تصدیق دعوئوں کا استعمال کرنے کی بھارت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اسی طرح کے ہتھکنڈے 2019میں بالاکوٹ حملے کے بعد دیکھے گئے جہاں بھارتی قیادت نے قابل اعتماد ثبوت پیش کیے بغیر بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی ہلاکتوںکا دعوی کیاتھا ، یہ ایک ایسابیانیہ تھا جو عالمی جانچ پڑتال کے بعد زمین بوس ہوگیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کی کہانی کو دہراکر بھارتی فوجی قیادت اپنے عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس شرمناک حقیقت سے منہ موڑ رہی ہے کہ اس کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کر دیا گیا تھا۔اس دوران بین الاقوامی مبصرین مسلسل خبردارکرتے رہے ہیں کہ اس طرح کے موقف سے صرف جنوبی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، جہاں بھارت کی مہم جوئی کے رویے نے پہلے ہی علاقائی امن کو غیر مستحکم کر دیا ہے اور اصل مسئلے یعنی جموں و کشمیر کے حل طلب تنازعے سے توجہ ہٹا دی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button