مسلمانوں اور پاکستان کو نشانہ بنانے کے لئے بھارتی میڈیا کی پروپیگنڈا مہم جاری
نئی دہلی: بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم مہم کے تحت بھارتی حکام نے دہلی میں ایک 59سالہ شخص کو جاسوسی اور غیر ملکی روابط کے الزامات پر گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ فرقہ وارانہ نفرت اور کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد عادل حسینی المعروف سید عادل حسین کو سیما پوری سے گرفتار کیا گیا ہے، ان پر ایک غیر ملکی ایٹمی سائنسدان اور جعلی پاسپورٹ ریکیٹ سے روابط کا الزام ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے پاکستان سمیت کئی ممالک کا سفر کیا ہے اور ایک حساس ادارے کا جعلی شناختی کارڈ بنوایاتھا،تاہم ان دعوئوں کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیاگیا۔ایک سینئر پولیس افسر پرمود کشواہ نے کہا کہ عادل اور اس کا بھائی اختر حسینی مبینہ طور پر جعلی دستاویزات تیار کرنے اور بیرون ملک معلومات فراہم کرنے میں ملوث تھا۔ تاہم کسی بھی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے کوئی ٹھوس ثبوت یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔انسانی حقوق کے کارکنوں کاکہناہے کہ مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت جاسوسی کے الزامات پر مسلمانوںکی گرفتاریوں کواکثر اندرونی بحرانوں سے توجہ ہٹانے اور اپنے پاکستان مخالف بیانیہ کو تقویت دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ کیس مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز بیانات اور ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے پروپیگنڈے کے موقع پر سامنے آیا ہے جس میں بھارتی مسلمانوں کو دہشت گردی یا جاسوسی سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔مبصرین کاکہنا ہے کہ بھارت کی پولیس اور میڈیا اکثر ایسے معاملات کو سنسنی خیز بنانے کے لیے ایکدوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں جن میں کسی مسلمان یا پاکستان کا نام شامل ہو- بعد میں مہینوں یا سالوں کی نظربندی کے بعد یہ کیس بے بنیاد پائے جاتے ہیں۔ دہلی میں مقیم انسانی حقوق کے ایک کارکن نے کہا کہ مقصد انصاف نہیں ہے بلکہ فرقہ وارانہ تعصب کو تقویت دینے والی سرخیاں بنانا ہیں۔محمد عادل کی گرفتاری اس طرح کے کئی واقعات کے بعد ہوئی ہے جن میں بھارتی حکام نے قابل تصدیق ثبوت پیش کیے بغیر یا شفاف ٹرائل کی اجازت دیے بغیر لوگوں پر پاکستان کے لیے جاسوسی یا غیر ملکی ہینڈلرز سے روابط کے الزامات لگائے ہیں۔





