بھارت

مقبوضہ جموں وکشمیراور بھارت میں سچ بولنے پر صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعدسے 20 زیادہ صحافی گرفتار: رپورٹ

اسلام آباد: آج جب دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، بھارتی فورسز کے اہلکارکشمیری صحافیوں کو مسلسل ہراساں اور گرفتار کررہے ہیں اورانہیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں صحافی انتہائی مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں اور سچ بولنے پر ان کے خلاف کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لیے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں صحافیوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، انہیں گرفتاریوں، پوچھ گچھ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مخصوص واقعات میں صحافیوں سے ان کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ، آلات کی ضبطی اور سوشل میڈیا پوسٹس یا خبروں کی رپو ٹنگ پر ملک دشمن قرار دینے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کے اندر خوف ودہشت اور سیلف سنسر شپ کا کلچرپیدا ہوا ہے۔2019میں دفعہ370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی صحافت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ مقامی صحافیوں کو ہراساں کیے جانے، نگرانی اور انسداد دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے جبکہ غیر ملکی نامہ نگاروں کو تنقیدی رپورٹنگ پر علاقے تک رسائی سے انکار یا ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بھارتی بیانیے کو فروغ دینا اور خطے میں حالات معمول کے مطابق ظاہر کرنا ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی جارہی ہے۔الجزیرہ نے نومبر 2024کی اپنی رپورٹ میں کہا کہ اکتوبر کی ایک سرد دوپہر کومقبوضہ جموں و کشمیر میں دس سالہ تجربہ رکھنے والے صحافی33سالہ احمد(فرضی نام) کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے اپنی شناخت ایک پولیس افسر کے طور پر کرتے ہوئے احمد سے اس کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں سوالات پوچھے ۔احمد نے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الجزیرہ کو بتایاکہ ایسا پہلی بار نہیں تھابلکہ گزشتہ پانچ سالوں میں مجھے ہر چند ماہ بعد اس طرح کی کالیں موصول ہوتی رہی ہیں۔احمد کا کہنا ہے کہ وہ پوچھتے ہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں، میں اس وقت کس کے لئے لکھ رہا ہوں، میں کس قسم کی خبریں چلاتا ہوں اور یہاں تک کہ آیا میں نے حال ہی میں بیرون ملک سفر کیا ہے؟سرینگر میں ایک صحافی نے کے ایم ایس کو بتایا کہ پچھلے چھ سالوں سے کم از کم ایک درجن ممتاز صحافیوں کو مسلسل نگرانی میں رکھا جارہاہے۔ ان سے ان کی رپورٹنگ یا سفر کے بارے میں تفصیلات پوچھی جارہی ہیںجس سے حق رازداری اور پریس کی آزادی کا حق سلب کیا جارہا ہے۔ان صحافیوں کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے ہیں جس سے انہیں بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس ماحول نے صحافیوں کو سیلف سنسرشپ اور حساس موضوعات سے گریز پر مجبورکیاہے۔
متعدد صحافیوں پر کالے قوانین لاگوں کئے گئے ہیں جن کے تحت بغیر مقدمہ چلائے گرفتاراور نظربند کیا جاسکتا ہے۔کئی صحافیوں کو نام نہاد مشکوک سرگرمیوں پرگرفتار اور نظربندکیاگیا ہے اور انہیں ضمانت پر رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتارکیا جاتاہے ۔ صحافیوں کو ان کے ذرائع یا رپورٹنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جاتاہے اور موبائل فون، لیپ ٹاپ اورکیمرے سمیت ان کا سامان ضبط کیا جاتا ہے اور اکثر واپس نہیں کیا جاتا۔ احتجاجی مظاہروں کی کوریج کے دوران کئی صحافیوں کو پولیس نے مارا پیٹا۔ کئی صحافیوں کو گرفتارکرکے طویل عرصے تک نظربند کیاگیا۔اگست2018 میںآصف سلطان کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سرینگر میں فائرنگ سے متعلق ایک خبر چلانے پر گرفتار کیا گیا۔مسرت زہرہ کو کالے قانون یو اے پی اے کے تحت اپریل 2020میں سوشل میڈیا پوسٹس پر ملک دشمن قراردیاگیا جو اب جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ الجزیرہ اور بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سجاد گل کوجنوری 2022میں گرفتار کیا گیا اور رہائی کے عدالتی حکم کے باوجود پی ایس اے کے تحت نظربند رکھا گیا۔عرفان معراج کو مارچ 2023میں بھارت مخالف سرگرمیوں کے الزام پر کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا۔فہد شاہ کو بی جے پی حکومت اور اس کی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹس شائع کرنے پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا۔پیرزادہ عاشق کے خلاف اپریل 2020میں ایک خبر چلانے پر مقدمہ درج کیاگیا۔پلٹزر ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد متواور مصنف گوہر گیلانی سمیت کئی ممتاز صحافیوں کو بھارتی حکام نے فرانس، امریکہ اور جرمنی جیسے ممالک میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں، ایوارڈ زکی تقریبات اور نمائشوں میں شرکت سے روکنے کے لیے بیرون ملک سفر نہیں کرنے دیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت علاقے میں میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے باربار گرفتاریوں سمیت ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ دفعہ 370کی منسوخی سے پہلے اور بعد میں آصف سلطان، فہد شاہ، ماجد حیدری اور سجاد گل جیسے نامور صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر کالے قوانین پی ایس اے اور یواے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ممتاز صحافی عرفان معراج انہی کالے قوانین کے تحت دہلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں۔ بی جے پی حکومت نے 2014میں اقتدار میں آنے کے بعدمقبوضہ جموں و کشمیر میں درجنوں صحافیوں کو گرفتار اورہراساں کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020میں نام نہادمیڈیا پالیسی متعارف کرانے کے بعد بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آزاد صحافت کو تقریبا ناممکن بنا دیا ہے۔ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے ہراساں اور اغوا کیا جاتا ہے، دھمکیاں دی جاتی ہیں اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں صحافت کو جرم بنا کر زمینی حقائق کو چھپا رہا ہے ۔ دی وائر کے ایک تجزیے میں کہاگیاہے کہ سرینگر سے شائع ہونے والے اخبارات کے ادارتی صفحات بی جے پی کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کئے جارہے ہیں۔ تجزیہ سے پتا چلا ہے کہ اخبارات کے مضامین میں تنازعہ کشمیر جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے غیر سیاسی سیاسی مسائل پر بحث کی جاتی ہے۔2024میں فرانسیسی صحافی وینیسا ڈوگناک کو جو طویل عرصے سے کشمیر اور دیگر حساس مسائل پر رپورٹنگ کرنے پر مودی کی ہندوتوا حکومت کی نگرانی میں تھیں، بھارت سے نکال دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014سے بی جے پی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیراور بھارت بھر میں 20سے زیادہ صحافیوں کو گرفتار کیا ہے۔بھارت میں سیاسی اسکینڈلز کی تحقیقات کے لیے مشہور صحافی راجیو پرتاپ کے حالیہ قتل نے صحافیوں کو درپیش خطرات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ پرتاپ 18 ستمبر 2025کو اتراکھنڈ میں لاپتہ ہوگیا تھا اور دس دن بعد اس کی لاش اترکاشی ضلع کے جوشیارہ ہائیڈرو الیکٹرک بیراج سے ملی تھی۔اسی طرح روزنامہ جاگرن کے صحافی راگھویندر باجپائی کو 8 مارچ 2025 کو بی جے پی کے زیر اقتدارریاست اتر پردیش کے ضلع سیتا پور میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔تحقیقات سے پتہ چلا کہ مندر کے ایک پجاری نے اس کے قتل کا منصوبہ بنایا جب باجپائی نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا اور اسے کیمرے میں ریکارڈ کیا۔ ایک اورکیس میںچھتیس گڑھ کے ضلع بیجاپور سے تعلق رکھنے والے ایک 33سالہ فری لانس صحافی مکیش چندراکرلاپتہ ہوگیا جس نے یکم جنوری 2025کو بستر کے علاقے میں 120کروڑ روپے لاگت کی سڑک کی تعمیر کے منصوبے میں بدعنوانی کو بے نقاب کیاتھا۔ دو دن بعداس کی لاش ایک ٹینک سے ملی جو ایک مقامی کنٹریکٹر کی ملکیت ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button