لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس ، اقوام متحدہ میں جمع کرائی درخواست پر بریفنگ
اسلام آباد:جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں نے اسلام آبادمیں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی سربراہ محمد یاسین ملک کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بھارتی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی درخواست کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پریس کانفرنس میں پارٹی ترجمان محمد رفیق ڈار، وائس چیئرمین سلیم ہارون ، یاسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک، برطانیہ میں قائم بین الاقوامی لاء فرم”میڈ-عرب-انٹرنیشنل”کے معروف وکیل بیرسٹر طارق محمود ، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اوردیگر موجود تھے۔ بیرسٹر طارق محمود نے پٹیشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم میں برطانیہ کی ایک اور بین الاقوامی لاء فرم ”بیڈفورڈ رو بیرسٹرز چیمبرز”سے وابستہ بیرسٹر کارل بکلی اور بیرسٹر اقصیٰ حسین بھی شامل ہیں جو دونوں اقوام متحدہ کے نظام کے ماہر اور اس کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔بیرسٹر طارق محمود نے بتایا کہ یاسین ملک کی 2019سے غیرقانونی نظربندی کے حوالے سے اقوام متحدہ میں باضابطہ شکایت درج کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی گرفتاری اور مسلسل نظربندی کاکوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ درخواست میں کیا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے ان کے ساتھ روا رکھا گیاسلوک بھارت کے اپنے قوانین اور ان بین الاقوامی معاہدوں کے منافی ہے جن میں بھارتی ریاست ایک فریق ہے۔ یاسین ملک کو ایک طویل مدت تک ایسے حالات میں نظربند رکھا گیا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا مقصد دراصل عدم تشدد کے اصول پر مبنی جاری ان کی جدوجہد آزادی کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ مکمل طور پر ناقص عدالتی کاروائی کے بعد یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور اسی طرح سزائے موت کی اپیل کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ سزائے موت کا مطالبہ صرف منصفانہ ٹرائل اور اس سے منسلک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مزید سنگین بناتا ہے۔ مشعال حسین ملک نے کہا کہ ان کے شوہر کو چھ سال سے زائد عرصے سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ وہ دل کے عارضے اور کمر کے دائمی دردمیں مبتلا ہیں۔ ان کے سیل میں مناسب وینٹیلیشن اور قدرتی روشنی کی کمی ہے اور طبی دیکھ بھال تک رسائی سے انکار کیا جاتا ہے جبکہ دل کے والو کو بدلنے کا آپریشن ابھی تک زیر التوا ہے جس سے ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ طبی معائنے کے لیے عدالتی احکامات کے باوجود یاسین ملک کو کسی ایسے ہسپتال میں داخل نہیں کیا گیا جو اس نوعیت کی سرجری کرسکے۔ سلیم ہارون نے پارٹی کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جے کے ایل ایف اس وقت تک پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی جب تک کہ وہ آزادی کے اپنے ہدف کو حاصل نہیں کر لیتی۔اس موقع پر جیل میں بند یاسین ملک کی 13سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سمیت عالمی رہنمائوں سے اپنے والد کو بچانے کی اپیل کی۔جے کے ایل ایف کے ترجمان رفیق ڈار نے یاسین ملک کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں بیرون ملک پارٹی رہنمائوں کے کردار کو سراہا۔






