مقبوضہ جموں و کشمیر

قابض حکام کی لاپرواہی کے باعث جھیل وولر میں بڑے پیمانے پر مچھلیوں کی ہلاکت

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ماہی گیروں کی انجمنوں نے جھیل و ولر اور دریائے جہلم میں مچھلیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ غیر قانونی ماہی گیری کے حوالے سے قابض حکام کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایسوسی ایشن کے ارکان نے کہاکہ سنو ٹرائوٹ اور سیڈلنگس سمیت مختلف اقسام کی مچھلیوںکی بڑے پیمانے پر ہلاکت کی وجہ نکیاری جیسے کلیدی افزائش والے علاقوں میں بجلی کی کرنٹ جیسے غیرقانونی طریقوں سے ماہی گیری ہے۔شمالی کشمیر کی ماہی گیر ایسوسی ایشن کے صدر غلام حسن نے کہا کہ بجلی کا ایک جھٹکا سیکڑوں مچھلیوں کو ہلاک یا ناکارہ کر سکتا ہے جس سے کمیونٹی کی طویل مدتی روزی روٹی کو خطرہ ہے۔انجمنوں نے جھیل وولر اوردریائے جہلم میں انسانی ساختہ رکاوٹوں کو بھی اجاگرکیاجو مچھلیوں کی نقل و حرکت کو محدود کرتی ہیں۔ انہوں نے ان کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیاتاکہ مچھلیوں اوران کی افزائش کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ماہی گیری، وولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی حکام کو بار بار درخواستیں کی گئیں لیکن ان کو نظر انداز کر دیا گیا۔اسسٹنٹ ڈائرکٹر فشریز بانڈی پورہ منیر احمد نے آلودگی اور غیر قانونی طریقوں سے ماہی گیری کو مچھلیوں کی موت کی بڑی وجوہات کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جدید ترین مشینری اور افرادی قوت کی کمی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ محکمہ فشریز نے کہا کہ وہ غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور چھوٹی مچھلیوں کو واپس پانی میں چھوڑ رہا ہے۔ماہی گیروں نے مچھلیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت سے نمٹنے کے لیے فوری مداخلت اورتحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردارکیاکہ فوری اقدامات نہ کرنے سے آبی حیات اور مقامی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button