بھارت

آسام میں انسداد تجاوزات کے نام پر متعددمسلمانوں کے گھروں کو منہدم کرکے بے گھر کیا جارہا ہے

گوہاٹی:بھارت میں بی جے پی کے زیر اقتداریاست آسام کے ضلع گولپارہ میں حکام نے انسداد تجاوزات کے نام پر  متعددمسلمانوں کے گھروں کو منہدم کرکے انہیں بے گھر کردیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تقریبا 153ہیکٹر اراضی کو واگزارکرنے کی مہم کے دوران تقریبا 580مسلم خاندانوں کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے جس سے وہ راتوں رات بے گھر ہورہے ہیں۔بی جے پی آسام کے جنرل سیکریٹری پلب لوچن داس کی طرف سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں بھارتی فورسز کی موجودگی میںبھاری مشینری کو گھروں کو گراتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ آپریشن جس میں محکمہ جنگلات اور پولیس کے ایک ہزار سے زائد اہلکار شامل ہیں، کئی دنوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔آسام کے انتہاپسند وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر بے دخلی مہم کا اشارہ دیتے ہوئے اعلان کیا تھاکہ ہم اپنی جنگلاتی زمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت اور واگزاری کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ضلعی حکام جنگلات کی زمین پر غیر قانونی قبضے کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی کا جواز پیش کرتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بھارتی سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں جبکہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کا بھی کوئی پروگرام پیش نہیں کیاگیا ہے۔ ریاستی حکومت یہ بے دخلی ایک مخصوص مذہبی برادری کی نام نہاد ڈیموگرافک یلغارسے نمٹنے کے نام پر کررہی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کی جائیدادوں کو مسمار کیا جارہا ہے جبکہ دیگر مذاہب کے لوگوں کوکچھ نہیں کہاجارہا ۔ متاثرہ خاندانوں نے بے دخلی کو امتیازی سلوک اور متعصبانہ حملہ قرار دیا ہے جس میں زمین کی واگزاری کی آڑ میں ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔یہ واقعہ آسام میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تعصب کی عکاسی کرتا ہے جہاں حکومت قانونی یا ماحولیاتی اقدامات کی آڑ میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button