نوگام دھماکے سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں نئی دہلی کی ناکامی بے نقاب ہوگئی ہے : کانگریس

نئی دہلی : بھارت میں حزب اختلاف کے سینئر رہنمائوں نے کہا ہے کہ سرینگر کے نوگام پولیس سٹیشن میں ہونے والے ہلاکت خیز دھماکے سے جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی سنگین ناکامی بے نقاب ہوگئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگریس کے صدر ملک ارجن کھرگے نے دھماکے میں 9اہلکاروں کی ہلاکت اور 30 سے زائد افراد کے زخمی ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ جموں وکشمیرمیں انتہائی سخت سیکورٹی کے باوجود نئی دہلی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوںنے کہا کہ دھماکہ جو دھماکہ خیز مواد کے ایک بڑے ذخیرے کے معائنے کے دوران ہوا ہے، دہلی میں لال قلعہ کار دھماکے کے چند دن بعد ہوا ہے اور یہ سکیورٹی کے ناقص انتظامات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے بڑھتا ہوا خطرہ قراردیتے ہوئے واقعے پر بحث کے لیے کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔راہول گاندھی نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دھماکے کو دل دہلا دینے والاواقعہ قرار دیا ۔ انہوں نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ دھماکہ لال قلعہ دھماکہ کیس سے منسلک مواد کی جانچ کے دوران ہواجسے جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے چھاپوں، گرفتاریوں اور مقامی نوجوانوں کی نگرانی کو تیز کرنے کے لئے ایک اور بہانے کے طور پردیکھا جاتا ہے۔
دریں اثناء مقبوضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ نوگام دھماکے سے ایک بار پھر بھارتی فورسز کی جانب سے دھماکہ خیز مواد سے غلط طریقے سے تمٹنے کے باعث پیدا ہونے والے خطرات کی عکاسی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آبادی والے علاقے میں واقع ایک پولیس سٹیشن کے اندر اس طرح کے خطرناک مواد پر کارروائی کیوں کی گئی۔






