مقبوضہ جموں وکشمیر میں املاک کی ضبطی اور گھروں کی مسماری پر اظہار تشویش

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں جموں و کشمیر لبریشن الائنس نے قابض بھارتی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کی جائیدادوں کی ضبطی اور رہائشی مکانات کی مسماری کو غیرمنصفانہ ، غیرقانونی اور انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لبریشن الائنس کے ترجمان سجاد میر نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے خطے میں طاقت کے وحشیانہ استعمال اور جابرانہ کارروائیوںمیں اِضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کشمیری خوف ودہشت اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ کے اقدامات کا مقصد خطے میں اختلافِ رائے کو دبانا اور شہری آزادیوں کو محدود کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ املاک ضبط کرنے اور گھروں کو مسمار کرنے جیسے ہتھکنڈے محض انتظامی اقدامات نہیں بلکہ سیاسی دبا ئوبڑھانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری رہنمائوں، کارکنوں اور عام شہریوں کو جھوٹے الزامات پر مقدمات میں پھنسایاجا رہا ہے۔ سجاد میر نے کہاکہ کشمیر ایک سیاسی تنازعہ ہے جسے طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوںنے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے کی سنگین صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔







