بی جے پی کے استحصالی ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنے پرکشمیری پنڈت رہنما پارٹی سے باہر
سرینگر: کشمیری پنڈتوں کی تنظیم” پنن کشمیر“ نے سیاسی مفادات کے لیے پنڈت برادری کا استحصال کرنے پر مودی حکومت کو کھلے عام تنقید کا نشان ہ بنانے پر اپنے رہنما اجے چرنگو کو تنظیم سے نکال دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق چرنگو کوہندوتوا حکومت کی ایماءپرنکالا گیا ہے۔ انہوںنے ہندو ووٹوں کے لیے کشمیری پنڈتوں کا استحصال کرنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی حکومت کو سرعام تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کی بے دخلی سے تنظیم اور اختلافی آوازوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو¿ کی عکاسی ہوتی ہے۔14 مارچ کوچرنگو کی برطرفی کے بعد ٹیٹو گنجوکو نیا سربراہ مقررکیاگیا ہے جو ایک سخت گیر شخص ہے اور مسلح تربیت اورکشمیر میںفوجی سائے میں علیحدہ پنڈت وطن کی وکالت کرتاہے، جس سے تنظیم کے اندر بنیاد پرستی کی طرف بڑھتے ہوئے رحجان کی عکاسی ہوتی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتوا حکومت نے بھاتی میڈیا آو¿ٹ لیٹس میں چرنگوکے اختلاف رائے کو دبانے کے لئے انہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے جوڑنے کی کوشش کی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حربہ ان کی تنقید کے سیاسی نتائج سے توجہ ہٹانے اور حکمران جماعت کی فرقہ پرستی اور انتخابی حکمت عملیوں کو چیلنج کرنے والی دیگر آوازوں کو دبانے کے لیے اختیارکیاگیا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا کہ چرنگو کا اخراج کشمیری پنڈت رہنماو¿ں میں آزادانہ سوچ کی سمٹتیہوئی جگہ اور کشمیر کے بارے میں بیانیے کو کنٹرول کرنے کے مودی حکومت کے مکروہ عزائم کی عکاسی ہوتی ہے، چاہے اس کے لئے اسے اپنی ہی برادری کے رہنماﺅں کو خاموش کرانا پڑے۔





