بھارت

”ڈی پی ڈی پی“ رولز نے صحافتی آزادی مزید خطرے میں ڈال دی ہے، ایڈیٹرز گلڈ

نئی دہلی : بھارتی میڈیا اداروں نے حال ہی میں متعارف کرائے جانے والے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) رولز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فریم ورک صحافتی آزادی کیلئے مزید خطرے کا باعث ہے اور اس سے معلومات کے حق کا قانون کمزور ہوگا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ”ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا“ نے ایک بیان میں کہا کہ نئے قواعد سے صحافتی کام کو خطرات لاحق ہونگے اور معمول کی رپورٹنگ اور تفتیشی سرگرمیوں، ڈیٹا پراسیسنگ وغیرہ میں دشواریوں کا سامنا ہوگا۔
گلڈ نے کہا کہ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری ایس کرشنن نے جولائی کے شروع میں پریس باڈیز کو یقین دلایا تھا کہ صحافتی کام ڈی پی ڈی پی ایکٹ کے تحت نہیں آئے گاتاہم نئے جاری کردہ قوانین نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے ،غیر واضح ضوابط صحافت کی آزادی کو کمزور کر سکتے ہیں اور جمہوری معاشرے میں میڈیا کے ضروری کردار میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔


بھارتی میڈیا اداروںکا کہنا ہے نئے قوانین معلومات کے حق کے نظام کو مزید کمزور کر سکتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button