سرینگر : عمران رضا انصاری کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت، قانونی کارروائی کا مطالبہ
سرینگر: بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں تمام اسلامی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکی مشترکہ تنظیم ”متحدہ مجلسِ علما“(ایم ایم یو) نے بھارت نواز رہنما عمر ان رضا انصاری کے اشتعال انگیز بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد علاقے کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی نقصان پہنچانا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ”ایم ایم یو“ نے سرینگرمیں جاری ایک بیان میں کہا کہ عمران انصاری نے کھلے عام جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے حوالے سے گستاخی اور نازیبا کلمات کا ارتکاب کیا ہے ،یہ طرزِ عمل انتہائی قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے ، یہ اسلامی اتحاد، اخلاقیات اور باہمی احترام کی بنیادوں پر حملہ ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اختلافِ رائے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد کشمیری معاشرے میں فرقہ وارانہ فساد کو ہوا دینا ہے اور یہ عمل اس ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے شدید خطرہ ہے جسے نسلوں سے علمائے کرام اور دینی شخصیات نے باہمی احترام، برداشت اور مکالمے کے ذریعے کشمیر میں قائم رکھا ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خود شیعہ مکتبِ فکر کے علماءبھی ان اشتعال انگیز بیانات سے سخت رنجیدہ ہیں اورآغا سید حسن الموسوی، مولوی مسرور عباس انصاری، آغا سید محمد ہادی الموسوی اور دیگر نے واضح طور پر عمران انصاری کے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کی زبان اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے ۔
ایم ایم یو نے اپنے بیان میںحکام سے مطالبہ کیا کہ وہ عمران رضا انصاری کے خلاف فوری کارروائی کریں ۔ بیان میں کہا گیا کہ جب تک عمران انصاری اپنے بیانات واپس لے کر معافی نہیں مانگتے، ان کا مکمل سماجی اور مذہبی بائیکاٹ کیا جائے گا ، متحدہ مجلس یا اس سے وابستہ کسی بھی تنظیم یا اجتماع میں انہیں مدعو نہیں کیا جائے گا۔بیان میں لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اشتعال انگیزبیانات کا شکار نہ ہوں اور علاقے کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا قائم رکھیں۔یاد رہے کہ عمران رضا انصاری تحریک آزادی اور علاقے کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کیلئے بھارتی ایجنسیوں کی ایما پر اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔






