آئین کی کاپیاں نذر آتش کرنے والی ”آر ایس ایس“آج سیاسی مفاد میں اسکا سہارا لے رہی ہے، کھرگے

نئی دہلی: بھارت میں کانگریس کے صدر ملکار جن کھرگے نے ہندو توا تنظیموں بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو کٹری تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا آئین ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، جواہر لال نہرو اور دستور ساز اسمبلی کی مشترکہ فکری کوششوں کا نتیجہ ہے لیکن جن اداروں اور نظریاتی گروہوں نے اس کی مخالفت کی تھی وہی آج اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کھرگے نے ”بھارتی یوم آئین “ کے موقع پر ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ آئین نے جمہوریت کو بنیادی مرکزیت دی اور انصاف، مساوات، آزادی، باہمی بھائی چارہ، سیکولرازم اور سوشلسٹ قدروں کو قومی شناخت میں تبدیل کیا لیکن آج یہی شناخت خطرے میں ہے، کیونکہ اداروں پر دباو¿، سیاسی مداخلت اور اختلافِ رائے کو کمزور کرنے کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔
کانگریس صدر نے کہا کہ جب 1949 میں دستور ساز اسمبلی نے آئین کو منظور کیا تھا، تب آر ایس ایس نے اسے مغربی اقدار کی دین قرار دے کر مسترد کیا تھا اور منوسمرتی کو اپنا مثالی قانونی متبادل بتایا تھا۔ کھرگے نے کہا کہ آر ایس ایس کے انگریزی ترجمان ’آرگینائزر‘ نے نومبر 1949 میں آئین پر تحریری اعتراضات شائع کیے تھے، جبکہ گرو گولوالکر نے بھی آئین میں قدیم ہندوستانی قانونی روایتوں کے عدم ذکر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 11 دسمبر 1948 کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ڈاکٹر امبیڈکر کا پتلا بھی جلایا گیا اور آزادی کی جدوجہد کے دوران جب متعدد رہنما جیلوںمیں تھے، آر ایس ایس نے انگریزوں کی پالیسیوں سے دوری اختیار نہیں کی اوریہی وجہ ہے کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد 30 جنوری 1948 کو سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگائی تھی۔
کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ آج وہ نوآبادیاتی ذہنیت کے خطرے پر لیکچر دیتے ہیں، جبکہ اسی نظریے کے لوگ کبھی آزادی کی تحریک کا حصہ نہیں رہے۔ ان کے مطابق آج آئین اور ترنگے کی تعریف کرنا محض سیاسی مجبوری اور عوامی تاثر بہتر بنانے کی کوشش ہے، نہ کہ اصولی وابستگی۔کانگریس صدر نے کہا کہ عوام اب سمجھ چکی ہے کہ جمہوری اداروں کو نقصان کون پہنچا رہا ہے اور آئین کی حرمت کو کون چیلنج کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس آئینی اقدار کا احترام کرنے کے بجائے انہیں کمزور کرنے میں مصروف ہیں، اس لیے یومِ آئین پر ان کا احترام ’ظاہری نمایش‘ کے سوا کچھ نہیں۔
کھرگے نے”ایکس “ پر اپنی پوسٹ کا اختتام اس جملے پر کیا کہ ”جن لوگوں نے کبھی آئین کی کاپیاں جلائیں، آج وہ امبیڈکر کی پتلے پر پھول چڑھا رہے ہیں، یہ آئین اور ہمارے بزرگوں کی جیت ہے۔“





