نئی دہلی میں بیرن ملک تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کے کوائف جمع کرنے کا حکم

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے نجی اسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرون ملک خاص طور پر پاکستان، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات اور چین سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے تمام ڈاکٹروں کے کوائف پولیس کے پاس جمع کرائیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہسپتال انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے ڈاکٹروں کے نام، تعلیم اور مکمل اسناد پیش کریںحالانکہ وہ قانونی طور پر بھارت میں پریکٹس کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے جس میںبھارتی حکام سکیورٹی خدشات سمیت مختلف بہانوں سے بیرون ملک تعلیم کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔حکام کا دعوی ہے کہ یہ نوٹس 10نومبر کو لال قلعہ کار دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میںجاری کیے گئے ہیں۔ اگرچہ تحقیقات کا تعلق ایک مخصوص واقعے سے ہے، تاہم پولیس نے بیرون ملک تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کو نشانہ بنانے کے لیے دائرہ وسیع کر دیا ہے۔انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات غیر ملکی تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد خاص طور پر پڑوسی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والوں کوبدنام کرنے کے لیے کئے جا رہے ہیںجس سے جائز بین الاقوامی ڈگریوں پر عدم اعتماد کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک تعلیم کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف بلاجواز ہے بلکہ اس طرزعمل کی عکاسی ہے جس میں بھارتی حکام طلبا کو بیرون ملک سستی یا خصوصی ڈگریوںکے حصول کے لیے ملک چھوڑنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اس اقدام نے طلبائ، والدین او پیشہ ور افراد میں خوف پیدا کر دیا ہے کہ حکومت غیر ملکی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نگرانی، پابندی یا بدنامی کے لیے”قومی سلامتی”کو ایک جواز کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔





