کیجریوال کے کیس سے بھارتی تحقیقاتی اداروں کی غیرجانبداری پر سوالات کھڑے ہوگئے

اسلام آباد : بھارت میں عام آدمی پارٹی کے بانی اور دہلی کے تین بار وزیر اعلیٰ رہنے والے اروندکیجریوال کے کیس نے بھارتی تحقیقاتی ادارں کی غیرجانبداری پر ایک نئی بحث کوجنم دیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اروند کیجریوال کا تعلق بنیا یا ویشیا برادری سے ہے جو روایتی طور پر برہمنوں سے نچلی ذات سمجھی جاتی ہے۔ انہیں 2024 میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور بعد میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں گرفتار کیا تھا۔یہ اس وقت بھی دہلی کے وزیر اعلیٰ تھے جب انہیں گرفتارکیاگیا اور انہوں نے سپریم کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے سے قبل تقریباً 156 دن نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں گزارے جس سے شخصی آزادی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایماءپر ایک تحقیقاتی ایجنسی نے ایک بے گناہ شخص کو بدعنوانی کے ایک جھوٹے کیس میں پھنسادیا۔27 فروری 2026 کو دہلی کی راو¿س ایونیو کورٹ نے سی بی آئی کے اہم کرپشن کیس میں ثبوت نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں اور دیگر ملزمان کو بری کر دیا۔قبل ازیں جنوری 2026 میں انہیں ای ڈی کے سمن سے متعلق کیس میں بھی بری کر دیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی تین مدتوںکے دوران انہیں کسی بڑے کیس میں سزا نہیں ملی اور ہتک عزت کی کئی کارروائیوں میں بھی ریلیف ملا۔ یہ فیصلہ انکی پارٹی کے اس موقف کو تقویت پہنچاتا ہے کہ مرکزی ایجنسیوں کو بی جے پی نے حزب اختلاف کی قیادت کو کمزور کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے 2025 میں عام آدمی پارٹی کو انتخابات میں شدید دھچکا لگا۔ایم کے اسٹالن اور بھگونت مان جیسے لیڈروں نے ان کو من گھڑت مقدمات قراردیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقلیتوں اور سماجی طور پر نچلے طبقوں کو اکثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بے جا تحقیقات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیر جانبدار انہ نقطہ نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی بار بار مداخلت یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سرکاری ادارے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور نچلی ذات کے افراد کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں۔بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ زیادہ تر مقدمات اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور نچلی ذات کے لوگوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر قائم کئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف اداروں پراپنے ختیارات سے تجاوز کرنے کے باربار لگنے والے الزامات سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ ادارے سیاست، ذات پات اور برادری سے بالاتر ہوکر آزادانہ طورپر اور قانون کے یکساں نفاذ پر عمل نہیں کرتے ہیں ۔




