بھارت

بھارت:دلت خاتون کو سکول میں کھانا بنانے سے روکنے پر چھ افراد کو 2برس قید کی سزا

چنئی:
بھارتی ریاست تامل ناڈو کی ایک عدالت نے ایک دلت خاتون کو سرکاری سکول میں بچوں کیلئے کھانا بنانے سے روکنے کے معاملے میں 6افراد کو 2برس قید کی سزا سنائی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق خصوصی عدالت نے پی پالا نیسمی گونڈر، این شکتیویل ، آر شانمو گم ، سی سیلنگیری، اے دوریسامی اور ویسیتا لکشمی نامی ہندوﺅں کو ذات پات کی تفریق اور دیگر جرائم کے لیے مذکورہ سزا سنائی ہے۔ یہ تمام لوگ سکول میں زیر تعلیم بچوں کے سرپرست تھے اور انہوں نے دلت خاتون کے کھانے بنانے پر اعتراض کیا تھا۔
”تمل ناڈو اچھوت مٹاﺅ“کے ارکان نے دلت خاتون باورچی کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ متاثرہ خاتون پی پپل نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف شکایت درج کرائی تھی جس پر پولیس نے کل35افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا تھاجن میں سے 8کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ایم شریش نے کہا کہ کل چھ لوگوں کو قصور وار پایا گیا اور ہر ایک کو 2برس قید کے علاوہ 5ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا گیا۔یہ معاملہ 2018کا ہے ۔مقدمہ تقریبا سات برس زیر سماعت رہا۔عدم ثبوت کی بنا پر 25افراد کو بری کیاگیا جبکہ مقدمے کی سماعت کے دوران چار افراد کی موت ہوگئی تھی۔ سزا یافتہ افراد کو کوئمبٹورسینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button