مسئلہ کشمیر کو فوجی طاقت سے نہیں ، حق خود ارادیت کے اصول کی بنیاد پر ہی حل کیا جاسکتاہے، حریت کانفرنس

سری نگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادی کی جدوجہد میں مصروف کشمیریوں پر بھارتی مظالم میں تیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر خالصتاً ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کے اصول کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ کشمیری اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کیلئے قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ رقم کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کشمیریوں کی بیش بہا قربانیوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر دنیا میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے او ر عالمی برادری اس مسئلے کی حساسیت کی وجہ سے اسکے فوری حل پرزوردے رہی ہے۔
حریت ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت کشمیریوں کے تمام حقوق سلب کر رکھے ہیں ، اس نے حریت رہنماﺅں ، کارکنوں ، وکلا ، سول سوسائٹی اور حقوق کے کارکنوں ، علمااور صحافیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں اور تعذیب خانوں میں بند کرکھا ہے اور وہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
ترجمان نے تمام کشمیری سیاسی نظربندوں کے عزم وہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی لازوال قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور جموں وکشمیر بھارتی تسلط سے آزاد ہو کررہے گا۔
ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کریں۔





