مقبوضہ کشمیر: امیگریشن قوانین کے نام پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کاسلسلہ مزید تیز کردیاگیا
امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ کے تحت بنگلہ دیشی خاتون کے خلاف مقدمہ درج

جموں : غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی سرابراہی میں قابض انتظامیہ نے امیگریشن قوانین کے نفاذ کے نام پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور مسلم دشمن اقدامات کاسلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے ضلع رام بن میں ایک بنگلہ دیشی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔قابض حکام کے مطابق خاتون مبینہ طور پر درست سفری دستاویزات کے بغیر بھارت میں داخل ہوئی تھی اور کچھ دنوں سے وہاںمقیم تھی۔ حکام نے دعویٰ کیاہے کہ خاتون اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت چندرکوٹ پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا۔تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قابض انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مسلم دشمن مہم کا حصہ ہے، جس سے عام شہریوں، خاص طور پر خواتین اور تارکین وطن میں خوف پیدا ہو رہا ہے، جنہیں تیزی سے ہراساں اور پروفائلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہناتھا کہ اس طرح کے اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم کمیونٹیز کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کی بھارت کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔








