بھارت

بھارت میں ہندوتوا انتہاپسندی عروج پر، مسلمانوں کیلئے مذہبی شناخت برقرار رکھنا چیلنج بن گیا

نئی دلی: بھارت میں نریندر مودی کے دور حکومت میں ہندو انتہاپسندی عروج پرہے اور مسلمانوں کیلئے اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنا ایک چیلنج بن گیاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہندوتوا نظریات اور بی جے پی حکومت کی انتہاپسند پالیسیوں کی وجہ سے مسلمان مذہبی آزادی اورشناخت کے شدید خطرات سے دوچار ہیں ۔ مختلف ریاستوں میں بی جے پی رہنمائوں اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے مساجد کی تعمیر کے خلاف نفرت انگیز بیانات کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے ۔ بھارتی جریدے ”دی ہندو”کے مطابق مغربی بنگال کے علاقے مرشد آباد میں ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے بابری مسجد کے نام سے ایک نئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔دوسری جانب "دی ٹائمز آف انڈیا”کے مطابق بی جے پی نے مغربی بنگال میں بابری مسجد جیسے نام اور ماڈل پر مسجد کی تعمیر کی کھل کر مخالفت شروع کر دی ہے۔ بی جے پی لیڈر رامیشور شرما نے مسلمانوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلمان بابری مسجد کی بنیاد کھودیں تو وہ ان ہی کی قبریں بنانے کیلئے استعمال ہوں گی۔انہوں نے واضح اعلان کیا کہ مغربی بنگال میں بابری مسجد ہرگز تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔ انتہا پسند ہندو تنظیم اتسو سمیتی کے صدر چندر شیکھر تیواری نے بھی مسلمانوں کے مذہبی حق پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بابر کے نام سے منسوب کسی مسجد کو برداشت نہیں کریں گے۔بھارتی میڈیا کے مطابق چند تنظیمیں بابری مسجد کی طرز پر تعمیراتی منصوبے کیلئے کروڑوں روپے کے عطیات جمع کر چکی ہیں، جس سے دونوں برادریوں کے درمیان مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بی جے پی رہنمائوں کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات نہ صرف بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک کے سیکولر تشخص کے لیے بھی شدید دھچکا ہیں۔ دوسری جانب بھارتی مسلمانوں نے مودی حکومت کی سخت پالیسیوں کے باوجود اپنے بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button